حکومت اچھا کام کر کے ایسا کرتی ہے کہ محنت پر پانی پھر جائے

حکومت اچھا کام کر کے ایسا کرتی ہے کہ محنت پر پانی پھر جائے

سٹاک تھا تو پٹرول بم کیوں مارا، ٹیکس جمع نہیں ہورہا سوچایہاں سے نکال لیں پیسے تو غریب ہی دینگے ، کسی کو فرق نہیں پڑے گا:آج کی بات سیٹھی کیساتھ

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ حکومت نے جو قیمتوں میں اضافہ کیا ہے یہ پٹرول بم ہے ، حکومت نے اپنے عوام اور انڈسٹری پر پٹرول بم مارا ہے ، اس کے نتائج بہت برے ہوں گے ، دنیا نیوز کے پروگرام ‘‘آج کی بات سیٹھی کے ساتھ’’میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا اس وقت بنگلہ دیش، سری لنکا، انڈیا سمیت خطے کے مقابلے میں پاکستان میں تیل کی قیمت 15 سے 20 فیصد زیادہ ہے ، دلچسپ بات یہ ہے کہ جی ڈی پی پر کیپٹل خطے میں سب سے کم ہے ، بڑے افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کا زیادہ بوجھ غریبوں پر پڑے گا،اس وجہ سے شہروں میں احتجاج ہورہے ہیں، لوگوں کو حکومت پر غصہ چڑھا ہوا ہے ،ایک جگہ پر لڑائی ہوئی، ایک شخص نے گولی چلا کر بندہ مار دیا، اس بات کی حکومت کو سمجھ نہیں آتی، حکومت کی مقبولیت پہلے ہی کم تھی، اب تو بالکل ختم ہو گئی ہے ،حکومت جو بھی اچھا کام کرتی ہے ، پھر اگلے دن ایسا کام کرتی ہے جس سے ان کی محنت پر پانی پھر جاتاہے ،اسی طرح پنجاب حکومت اچھے کام کررہی تھی،پھر جہاز لے لیا،اس کے بعد لینڈ کروزر لئے جارہے ہیں،وزیر اعظم شہبازشریف کہتے رہتے ہیں ہم تنخواہ نہیں لیں گے ،ہم یہ نہیں کریں گے ،یہ نان سینس ہے ،یہ ہم کب سے سنتے آرہے ہیں، یہ صرف وائٹ واش ہوتا ہے عوام کو بتانے کیلئے ،ہم نے یہ کیا وہ کیا ہے ،یہ سب وزرا اپنے خرچے کم نہیں کرتے ،شہباز شریف، اسحا ق ڈار نے کئی ممالک کے دورے کئے ، اب تک کیا حاصل کیا ہے ،صرف آنا جانا لگا رہا، کوئی غیر ملکی سرمایہ کاری نہیں ہوئی،حکومت سے میں مخاطب ہوں کہ قیمتیں بڑھانے کی ابھی کیا ضرورت تھی، حالانکہ وزرا نے پہلے کہا تھا کہ ایک ماہ کا سٹاک موجود ہے ، تھوڑے دن تک ٹھہر جاتے ،کسی بیوروکریٹ نے کہا ہوگا کہ سر، یہ اچھا موقع ہے ،بم مار کر چار پیسے کما لیتے ہیں،کیونکہ ایف بی آر کے جو ہم نے ٹیکس جمع کرنے ہیں وہ پورے نہیں ہورہے ،آئی ایم ایف ہمارے کندھوں پر بیٹھا ہے ،ہم ادھر سے پیسے کاٹ لیتے ہیں،سوارب روپے انہوں نے نکال لینے ہیں،یہ پیسے تو غریب ہی دیں گے ، باقی کسی کو فرق نہیں پڑے گا۔مہربانی کریں، عوام کے اوپر بم نہ پھاڑیں، اگر پھاڑنا ہے تو اپنے اوپر پھاڑیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں