تیل قیمتیں بڑھتے ہی مہنگائی کا سیلاب امڈ آیا،اشیائے ضروریہ عوام کی پہنچ سے باہر
مٹر 58، گوبھی 45،ہری مرچ 120، دال چنا 280،ماش 440، مسور 280اور سفید چنے 380روپے فی کلو تک پہنچ گئے سیب 320، کیلا درجہ اول 350، درجہ دوئم 280،کینو 280،مسمی 160روپے درجن فروخت ہوئے ،عید کی خوشیاں پھیکی
اسلام آباد (سید قیصر شاہ) پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے فی لٹر اضافے کے بعد مہنگائی کا سیلاب امڈ آیا اور بیشتر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کر دیا گیا۔ مہنگائی کے باعث عید کی خوشیاں پھیکی پڑ گئیں ، عام استعمال کی اشیا سے لے کر ٹرانسپورٹ کرایوں تک اضافے نے عام آدمی اور سفید پوش طبقے کی مشکلات بڑھا دیں۔ ماہِ رمضان کے دوسرے عشرے کے اختتام پر عید کی خریداری بھی مہنگائی کی لپیٹ میں آ گئی جبکہ اشیائے ضروریہ جو پہلے ہی مہنگی تھیں اب عام شہری کی دسترس سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ مرغی کا گوشت 580 روپے ، چھوٹا گوشت 2700 روپے اور بڑا گوشت 1700 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے جبکہ گھی 560 روپے اور باسمتی چاول 380 روپے فی کلو تک پہنچ گئے ۔سبزیوں میں آلو درجہ اول 40 اور درجہ دوئم 35 روپے ، پیاز درجہ اول 80 اور درجہ دوئم 60 روپے جبکہ ٹماٹر درجہ اول 70 اور درجہ دوئم 50 روپے فی کلو فروخت ہوئے ۔ ادرک 400 روپے اور دیسی لہسن 200 روپے فی کلو تک جا پہنچا ۔ سبزیوں میں مٹر 58 روپے ، گوبھی 45 روپے اور ئری مرچ 120 روپے فی کلو فروخت ہوئی۔پھلوں میں سفید سیب 320 روپے جبکہ کالا کلو پہاڑی سیب 600 روپے فی کلو فروخت ہوا۔ کیلا درجہ اول 350 روپے اور درجہ دوم 280 روپے فی درجن رہا جبکہ کینو 280 اور مسمی 160 روپے فی درجن فروخت ہوئے ۔کھجوروں میں ایرانی کھجور 540 روپے ، اصیل کھجور 450 روپے اور مضافاتی ڈبہ 530 روپے میں فروخت ہو رہا ہے ۔ دالوں میں دال چنا 280 روپے ، دال ماش 440 روپے ، دال مسور 280 روپے اور سفید چنے 380 روپے فی کلو تک پہنچ گئے ہیں۔سرخ مرچ 740 روپے فی کلو جبکہ گرم مصالحہ (250 گرام) 700 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے ۔ تازہ کھلے دودھ کی قیمت میں 20 روپے فی لٹر اضافے کے بعد قیمت 250 روپے فی لٹر ہو گئی ہے جبکہ کھلا دہی 260 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے ۔