ٹرمپ کی ایران کیساتھ مذاکرات کے لئے مشروط آمادگی:فریقین کی ایک دوسرےپر حملوں میں تیزی جنگ میں طوالت نہیں چاہتے:اسرائیل پوٹن کا ایرانی صدرسے رابطہ ثالثی کی پیشکش

ٹرمپ کی ایران کیساتھ مذاکرات کے لئے مشروط آمادگی:فریقین کی ایک دوسرےپر حملوں میں تیزی جنگ میں طوالت نہیں چاہتے:اسرائیل پوٹن کا ایرانی صدرسے رابطہ ثالثی کی پیشکش

رسالت اسکوائر میں 40 شہید، اموات 1300 سے تجاوز، انقلاب اسکوائر میں مجتبیٰ خامنہ ای سے یکجہتی کیلئے نکالی ریلی بھی نشانہ، لبنان میں 5شہید، ایرانی حملوں میں 191اسرائیلی زخمی، طویل جنگ کیلئے تیار، ایران امارات کی ایک بڑی ریفائنری ڈرون حملے کے بعد احتیاطاً بند،آئندہ حملے کا جواب دینگے، قطر،دفاع کا مکمل حق، سعودی کابینہ،ایک میزائل ،5ڈرون روک دئیے ،فرانس کا آبنائے ہرمز میں جہازوں کے تحفظ کا اعلان

تہران(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک) ایران، امریکا و اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے دوران ایرانی دارالحکومت تہران پر ایک بار پھر شدید فضائی حملے کیے گئے جبکہ جوابی حملوں میں بھی تیزی آگئی، امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کیساتھ مذاکرات کیلئے مشروط آمادگی ظاہر کردی،انہوں نے کہا جنگ جلد ختم ہوگی، آبنائے ہرمز میں حملے جاری رہے تو یہ طول پکڑ سکتی، اسرائیلی وزیرخارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیلی حکومت طویل جنگ نہیں چاہتی۔روسی صدر پوٹن نے ایرانی ہم منصب کو فون کیا اور ثالثی کی پیش کی ۔ بتایا گیا کہ گزشتہ روز تہران پر ہونے والی بمباری کو جنگ شروع ہونے کے بعد اب تک کی سب سے شدید بمباری قرار دیا جا رہا ہے ، حملوں میں شہر کے مشرقی، جنوبی اور مغربی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا،دھماکے اس قدر شدید تھے کہ قریبی عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز اٹھیں،ایران کے شہر کرج میں حملوں کے نتیجے میں بجلی کے نظام کے کچھ حصے متاثر ہوئے ،اصفہان میں حکام کے مطابق گورنر ہاؤس اور ایک یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل تاریخی مقام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ادھر مشرقی تہران کے علاقے رسالت سکوائر کے قریب حملے میں کم از کم 40 افراد شہید ہو گئے ۔

شہر خمین میں امریکی میزائل حملے میں ڈاکٹر حافظ خمینی سکول کو نشانہ بنایا گیا، جس سے قریبی رہائشی گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔تہران کے انقلاب سکوائر کے قریب نو منتخب سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے یکجہتی ریلی کے دوران امریکا اور اسرائیل نے حملہ کردیا جس کی ویڈیو ایرانی سرکاری ٹی وی پر براہِ راست نشر ہوئی۔ دھماکوں کی آواز سے ڈرنے کے بجائے ایرانی ڈٹ کر مزاحمت کرتے رہے ، دھماکوں کی گونج میں مزید شدت کے ساتھ اپنے ملک کے جھنڈے لہرائے اور امریکا اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے ۔ حکام کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے اموات کی مجموعی تعداد 1300 سے تجاوز کر چکی ہے ۔دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے جوابی کارروائیوں میں یکے بعد دیگرے 33ویں ،34ویں اور 35ویں لہر کے تحت مزید میزائل حملے شروع کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ آئندہ ایک ٹن یا اِس سے زیادہ وزن کے بھاری میزائل استعمال کیے جائیں گے ۔ایران نے اسرائیل کے شہر حیفا میں آئل ریفائنری اور آئل ڈپو پر حملہ کردیا، اسرائیلی تیل کی تنصیبات کو ڈرونز کی مدد سے نشانہ بنایا، پاسداران انقلاب کے مطابق یہ حملہ ایرانی تیل کے ذخائر پر حملوں کا جواب ہے ۔ایرانی حملوں میں زخمی اسرائیلی شہریوں کی تعداد 2 ہزار 339 ہوگئی۔ 24 گھنٹے میں 191 اسرائیلی زخمی ہوئے ۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران نے حالیہ جنگ کے آغاز سے عرب ممالک میں اپنے اہداف پر 2000 ڈرونز اور 500 میزائل داغے ۔دوسری جانب امریکی سنٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ امریکی فوج ایرانی میزائل لانچرز کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے ۔ہم ایرانی میزائل لانچرز کی تلاش جاری رکھیں گے اور جب بھی ہمیں وہ ملیں گے ہم انہیں تباہ کر دیں گے ۔ دنوں کے حملوں کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے سینٹکام نے کہا ایران میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، پاسداران انقلاب کے ہیڈکوارٹرز، انٹیلی جنس مراکز اور فضائی دفاعی نظام سمیت 5 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔پینٹاگون کے مطابق امریکا ایران کے خلاف آپریشن کے پہلے ہفتے میں تقریباً 6 ارب ڈالرز خرچ کر چکا ہے ، جبکہ یومیہ 891 ملین ڈالرز خرچ کر رہا ہے ۔ادھر دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی بڑی آئل ریفائنریوں میں شامل رویس ریفائنری کو اس کے نزدیک ہونے والے ایک ڈرون حملے کے بعد احتیاطاً بند کر دیا گیا ہے ۔ اس سے قبل ابوظہبی میڈیانے کہا تھا الرویس صنعتی کمپلیکس پر ڈرون حملے کے بعد آگ لگ گئی ہے ۔سعودی عرب کی وزارت دفاع کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے اعلان کیا کہ مشرقی علاقے میں ایک بیلسٹک میزائل اور 5 ڈرونز کو روکا اور تباہ کیا ہے ۔

اس سے قبل سعودی دفاعی حکام نے صوبہ الخرج کے مشرق میں دو ڈرونز کو مار گرانے کا اعلان کیا تھا۔اس کے علاوہ سعودی فورسز نے گزشتہ روز ربع الخالی میں شیبہ فیلڈ کی جانب بڑھنے والے نو ڈرونز کو ناکارہ بنایا۔سعودی وزارت دفاع نے ربع الخالی میں شیبہ فیلڈ نامی تیل کے کنوئیں کی جانب بڑھنے والے مزید سات ڈرونز بھی تباہ کیے ، جو مملکت کو نشانہ بنانے والے ایرانی ڈرونز کو روکنے اور ان کا مقابلہ کرنے کی تازہ ترین کارروائی ہے ۔سعودی عرب کی کابینہ نے منگل کو مملکت، خلیجی ممالک اور خطے کے دیگر ممالک کو نشانہ بنانے والے ایرانی حملوں کی شدید مذمت کی، اور واضح کیا کہ مملکت کو دفاع کا مکمل حق حاصل ہے ۔ادھر سعودی عرب کی سرکاری تیل کی کمپنی آرامکو کے چیف ایگزیکٹو امین الناصر نے کمپنی کے مالی سال 2025 کے نتائج کے اعلان کے بعد خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور تیل کی رسد میں رکاوٹ کا سلسلہ جاری رہا تو تیل کی عالمی منڈیوں پر اس کے ‘تباہ کن اثرات’ پڑ سکتے ہیں۔

ترکیہ کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے جنوب مشرقی صوبے ملاطیہ میں امریکی ساختہ پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام تعینات کر دیا گیا ، یہ اقدام نیٹو کی جانب سے ایرانی جنگ کے باعث پیدا ہونے والے میزائل حملے کے خطرات کے پیش نظر فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے کیا گیا ہے ۔قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ کشیدگی کے آغاز سے قطر اور ایران کے درمیان ایک ہی براہ راست رابطہ ہوا ہے جو کشیدگی کے شروع میں قطری وزیراعظم اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان ہوا تھا۔ہمیں یقین ہے تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے ۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی معذرت سے امید کی کرن ملی تھی، تاہم اس کے بعد قطر یو اے ای اور بحرین پر مزید حملے شروع ہوئے ، قطر دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ جنگ کے حوالے سے مشترکہ بیان کی تیاری کر رہا تھا تاہم ایران نے معذرت پر ردعمل کا موقع نہیں دیا،قطر موجودہ جنگ کا فریق نہیں اور اپنا بھرپور دفاع کرنے میں دریغ نہیں کرئے گا، قطر سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے مگر آئندہ حملے کی صورت میں جواب دیا جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل روکنے کی کوشش کی تو امریکا اس کے خلاف انتہائی سخت فوجی کارروائی کرے گا، انہوں نے ایران کو 20 گنا زیادہ طاقت ور کارروائی کی دھمکی دی۔امریکی صدر نے کہا اگر ایران نے اس گزرگاہ کو بند کرنے کی کوشش کی تو امریکا ایسے اہداف کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے جن کی تباہی کے بعد ایران کے لیے بطور ریاست دوبارہ کھڑا ہونا انتہائی مشکل ہو جائے گا، موت، آگ اور تباہی ان پر مسلط ہو جائے گی، تاہم میں امید اور دعا کرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کو کھلا رکھنا چین سمیت دیگر ممالک کے لیے فائدہ مند ہے جو توانائی کی ترسیل کے لیے اس راستے پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔جنگ کے خاتمے کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ جلد ہوگا لیکن اس ہفتے ممکن نہیں ہے البتہ آبنائے ہرمز میں ایرانی حملے جاری رہے تو جنگ طول پکڑ سکتی ہے ۔

امریکی صدر نے کہا ایران کے ساتھ بات چیت ممکن ہے ، تہران اب واقعی مذاکرات کرنا چاہتا ہے ، مگر بات چیت شرائط پر منحصر ہے ۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ نہیں لگتا کہ نئے سپریم لیڈر امن سے زندگی گزار سکیں گے ، انہوں نے کہا کہ امریکا کی ایران میں فوجی کارروائیوں کے نتائج متوقع سے کہیں زیادہ تھے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خلیجی ممالک پر ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں پر حیرت کا اظہار کیا۔امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ ایران اس جنگ میں ‘بری طرح ہار رہا ہے ’ اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کی تعداد بھی کم ترین سطح پر رہی ہے ۔ مجتبیٰ خامنہ ای کیلئے دانشمندی ہوگی وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پیغام پر عمل کرے ۔ روس کے صدر پیوٹن نے ایران کے صدر مسعود پزیشکیان سے فون پر گفتگو میں ایران تنازع میں کشیدگی کم کرنے اور مسئلے کے سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ کریملن کے مطابق پیوٹن نے اس بات کا اعادہ کیا کہ روس تنازع کے فوری پُرامن حل اور سیاسی طریقوں کے ذریعے مسائل کے حل کے موقف پر قائم ہے ۔

کریملن نے بتایا کہ پزیشکیان نے روس کی حمایت کا شکریہ ادا کیا، خاص طور پر ایران کو انسانی امداد فراہم کرنے پر۔ روس نے اپنے حلیف تہران کو فوری مدد بھیجی ہے تاکہ انسانی ضروریات کو پورا کیا جا سکے ۔ روس کی یہ پیشکش خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایران کے ساتھ تعلقات مستحکم رکھنے کے اقدامات کے طور پر دیکھی جا رہی ہے ۔تجزیہ کاروں کے مطابق روس کی یہ کوشش ایران تنازع میں عالمی سطح پر ثالثی کی ایک کوشیش کے طور پر سامنے آئی ہے اور خطے میں جنگ بندی اور انسانی بحران کے خطرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے ۔دوسری جانب اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا اسرائیل کی فوجی کارروائیاں انھیں شدید تکلیف پہنچا رہی ہیں، اسرائیل کا مقصد ایرانی عوام کو موجودہ حکومت کی ظلم و جبر (آمریت) سے آزاد کرانا ہے ۔ تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ آخرکار یہ فیصلہ خود ایرانی عوام کو کرنا ہے ۔ اسرائیلی وزیر خارجہ نے مقبوضہ بیت المقدس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیلی حکومت ایران کے ساتھ طویل جنگ نہیں چاہتی ، جنگ ختم کرنے کے وقت کے بارے میں واشنگٹن سے مشاورت کی جائے گی ، ہم ایک نہ ختم ہونے والی جنگ نہیں چاہتے ۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت صرف اس ملک کو دی جائے گی کہ جو امریکہ اور اسرائیل کے سفیر کو ملک بدر کرے گا۔انہوں نے کہا انھیں کل سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے مکمل اختیار اور آزادی حاصل ہوگی۔واضح رہے کہ دنیا کے تقریبا 20 فیصد تیل کی ترسیل اس آبنائے سے ہوتی ہے اور جنگ کی وجہ سے سمندری آمدورفت میں شدید کمی آئی ہے جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ایرانی پاسدارنِ انقلاب نے کہا جنگ کے خاتمے کا فیصلہ ہم کریں گے ۔ ٹرمپ کی باتیں بے معنی ہیں، خطے میں سلامتی یا تو سب کیلئے ہوگی یا کسی کیلئے بھی نہیں ہوگی۔اگر امریکہ اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو تہران خطے سے ایک لیٹر تیل بھی برآمد ہونے نہیں دے گا۔ سربراہ ایرانی سٹریٹجک کونسل برائے خارجہ امور کمال خرازی نے کہا ہے کہ ایران طویل جنگ کے لئے پوری طرح تیار ہے ۔امریکا سفارت کاری کی زبان نہیں سمجھتا اور وہ اس کا بارہا ثبوت دے چکا ہے ، ٹرمپ وعدے پر قائم نہیں رہے ، مذاکرات کے دوران ہم پر حملے کئے گئے ۔امریکا کے ساتھ سفارت کاری کی گنجائش ختم ہو چکی ہے ۔ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہاہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات اب ایجنڈے میں شامل نہیں۔ضرورت پڑنے تک ایران میزائل حملے جاری رکھنے کے لیے تیار ہے ۔

مزید برآں اسرائیل نے لبنان کے جنوبی اور مشرقی حصوں پر نئے حملے کیے ہیں جن میں ایک پادری فادر پیئر الرحی سمیت 5 افراد ہلاک ہوگئے ، اسرائیل نے جنوبی لبنان کے رہائیشیوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ اس علاقے پر پہلے سے ہی فضائی حملے جاری ہیں۔ اسرائیلی دفاعی افواج کے ترجمان اوِیخائے ادرعی نے کہا ہے کہ اسرائیل دریائے لیتانی کے جنوب میں حزب اللہ کی سرگرمیوں کی وجہ سے اس کے خلاف شدید کارروائی کر رہا ہے ۔ آپ فوراً اپنے گھروں کو خالی کریں اور دریائے لیتانی کے شمال کی جانب منتقل ہو جائیں۔ پیر اور منگل کی درمیانی رات اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے المجدیل، چکرا، سریفا اور وادی بیکا کے قصبوں پر حملے کیے ۔ منگل کو انصاریہ قصبے کے ساتھ ساتھ بنت جبیل اور عیناتہ کے مضافات میں شدید اسرائیلی حملے کیے گئے جن کے نتیجے میں بنت جبیل ضلع میں چار افراد مارے گئے ۔جنوبی لبنان کے گاں قلعہ میں ایک مارونائٹ کیتھولک پادری فادر پیئر الرحی اسرائیلی ٹینک کی فائرنگ سے ہلاک ہوا۔

لبنان کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل کی جانب سے اس مہینے کے آغاز میں شروع ہونے والے حملوں کے بعد سے اب تک 486 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔دوسری جانب بیروت میں امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ اگر وہ لبنان چھوڑ کر نہیں جا رہے تو اپنی موجودہ جگہ کو نا چھوڑیں اور اگر وہ وہاں محفوظ نہیں تو کسی محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں۔ امریکی شہریوں کو چاہیے کہ اگر انھیں محفوظ محسوس ہو تو وہ بیروت کے رفیق حریری بین الاقوامی ہوائی اڈے سے روانہ ہونے والی مڈل ایسٹ ایئر لائنز کی پروازوں کے ذریعے ملک چھوڑنے پر سنجیدگی سے غور کریں۔جرمنی نے عراق میں سکیورٹی خطرات کے پیش نظر بغداد سے اپنے سفارتی عملے کو عارضی طور پر منتقل کرنے کا اعلان کر دیا۔جبکہ فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو فوجی تحفظ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے ، قبرص میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ مشن مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہو گا جس کا مقصد کنٹینر جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کو محفوظ راستہ فراہم کر کے اہم سمندری گزرگاہ کو مرحلہ وار دوبارہ کھولنا ہے ۔

فرانس مشرقی بحیرہ روم اور مشرقِ وسطی میں 8 جنگی جہاز، 2 ہیلی کاپٹر بردار جہاز اور جوہری طاقت سے چلنے والا طیارہ بردار جہاز شارل ڈی گول بھی بھیجے گا۔اس اقدام کو فرانسیسی صدر نے غیر معمولی اقدام قرار دیتے کہا کہ فرانس کا مقصد دفاعی پوزیشن برقرار رکھتے ہوئے سمندری راستوں کی آزادی اور خطے میں کشیدگی کم کرنا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں