سندھ :دفاتر میں 4دن کام،جمعہ کو ورک فرام ہوم کا فیصلہ،اسکولز بند:سرکاری پٹرول میں50 فیصد کٹوتی کر دی،کابینہ

سندھ :دفاتر میں 4دن کام،جمعہ کو ورک فرام ہوم کا فیصلہ،اسکولز بند:سرکاری پٹرول میں50 فیصد کٹوتی کر دی،کابینہ

چارروزہ ہفتہ کار میں نصف ملازمین کوگھروں سے کام کی اجازت،اعلیٰ افسران کی 2 روزکی تنخواہ کم، 60 فیصدسرکاری گاڑیاں 2 ماہ بند،وزرا، مشیر،معاونین3تنخواہیں نہیں لیں گے کالجوں وجامعات میں کلاسزآن لائن،حکومتی اخراجات میں 20 فیصد کمی،تاجروں کوگندم دینے کا فیصلہ کرلیا،اسپیشل اکنامک زونزایکٹ میں ایس آئی ایف سی کی مجوزہ ترامیم کی مخالفت

کراچی(اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ نے توانائی کی موجودہ صورتحال سے نمٹنے اور صوبے بھر میں عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے جامع کفایت شعاری اور پٹرول بچاؤ منصوبے کے ساتھ ساتھ طرز حکمرانی، معیشت، سماجی تحفظ اور تعلیم سے متعلق متعدد اصلاحات کی منظوری دے دی۔کابینہ نے 23 نکاتی ایجنڈے پر غور کرتے ہوئے مالیاتی نظم و ضبط، ایندھن کے تحفظ، تعلیمی اصلاحات، خواتین کے حقوق، زراعت، صحت اور ادارہ جاتی مضبوطی سے متعلق اقدامات کی منظوری دی۔حکومت نے سرکاری گاڑیوں کے لیے پٹرول کی فراہمی میں دو ماہ کے لیے 50 فیصد کمی کر دی جس سے تقریباً 960.55 ملین روپے کی بچت متوقع ہے ۔ تاہم ایمبولینسز، بسوں اور ہنگامی خدمات جیسی آپریشنل گاڑیوں کو مستثنٰی قرار دیا گیا۔ محکموں کی 60 فیصد گاڑیاں آئندہ دو ماہ تک بند رہیں گی جبکہ ہدایت کی گئی کہ افسران کے درمیان کار کی مشترکہ سواری کو فروغ دیا جائے ۔صوبائی وزراء، مشیران اور معاونین خصوصی نے رضاکارانہ طور پر اپریل، مئی اور جون میں تنخواہیں اور الاؤنسز نہ لینے کا فیصلہ کیا۔صوبائی اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں 25 فیصد رضاکارانہ کمی کی تجویز بھی دی گئی۔

گریڈ 20 اورزائد کے سینئرافسران جو ماہانہ تین لاکھ روپے سے زائد تنخواہ حاصل کرتے ہیں، انہیں بھی صحت اور تعلیم کے شعبوں میں خدمات انجام دینے والے افسران کے علاوہ رضاکارانہ طور پر دو دن کی تنخواہ ترک کرنے کی ترغیب دی گئی۔کابینہ نے موجودہ مالی سال کی آخری سہ ماہی کے لیے غیر ضروری حکومتی اخراجات میں 20 فیصد کمی کی منظوری بھی دی ، تاہم بجلی کے بلوں اور ادویات کی خریداری کومستثنٰی رکھا گیا۔نئی سرکاری گاڑیوں اور دیگراشیاء کی خریداری پر جون 2026 تک مکمل پابندی برقرار رہے گی۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے آلات کی خریداری صرف متعلقہ حکام کی جانچ پڑتال کے بعد ہی ممکن ہوگی۔ ناگزیر حالات کے علاوہ سرکاری بیرون ملک دوروں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ سرکاری دوروں پر جانے والے وزراء، اراکین پارلیمنٹ اور سرکاری افسران کو اکنامی کلاس میں سفر کرنا ہوگا۔سرکاری عشائیوں اور بڑی رسمی تقریبات پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ، تاہم غیر ملکی وفود کے اعزاز میں استقبالی تقریبات مستثنٰی ہوں گی۔محکموں کو ہدایت کی گئی کہ سفری اور رہائشی اخراجات میں کمی کے لیے اجلاسوں کا انعقاد ورچوئل یا آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے کیا جائے ۔

ضروری خدمات کے علاوہ عملے کے 50 فیصد تک کو متبادل دنوں میں گھر سے کام (ورک فرام ہوم)کی اجازت دینے کی منظوری دے دی گئی۔سرکاری اور نجی شعبے کے دفاتر میں چار روزہ ورک ویک بھی نافذ کیا جائے گا،جمعے کے روز سرکاری ملازمین ورک فرام ہوم کریں گے ،جبکہ ضرورت کے مطابق اوقاتِ کار میں ردوبدل کیا جائے گا۔ اقدامات بینکاری شعبے ، صنعت اور زراعت پر لاگو نہیں ہوں گے ۔اسکولوں میں 16 مارچ سے 31 مارچ تک بہار کی تعطیلات ہوں گی جبکہ اس دوران کالجوں اور جامعات میں سو فیصد آن لائن کلاسز منعقد کی جائیں گی۔سڑکوں پر رفتار کی حد کم کر دی گئی ، جس کے تحت موٹرویز پر رفتار 90 سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ اور شاہراہوں پر 65 سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کی گئی۔شادی کی تقریبات اور عوامی اجتماعات میں مہمانوں کی تعداد 200 تک محدود کر دی گئی، جبکہ ون ڈش قانون پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔صوبائی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کے لیے نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنا دیا۔

کابینہ نے اسٹوڈنٹ اٹینڈنس مانیٹرنگ اینڈ ریڈریس سسٹم (سامرس)پالیسی کی بھی منظوری دی۔کاروباری برادری سے مشاورت کے بعد سندھ ڈویلپمنٹ اینڈ مینٹی ننس آف انفرااسٹرکچر سیس (سیکنڈ ترمیمی) ایکٹ 2026 اور نظرثانی شدہ سیٹلمنٹ ایگریمنٹ (مارچ 2026) کی منظوری دے دی گئی۔ کابینہ نے گندم اجرا پالیسی کا دائرہ کار بڑھا کر آٹا ملوں اور چکیوں کے ساتھ ساتھ نجی تاجروں تک بھی توسیع دینے کی منظوری دی۔لائسنس یافتہ تاجروں کو حکومت کی مقررہ قیمت 8,000 روپے فی 100 کلوگرام بوری کے حساب سے گندم فراہم کی جائے گی۔کابینہ نے قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق کے لیے ڈاکٹر راکیش موتیانی اور مس تشنامائٹی پٹیل کو صوبائی نمائندوں کے طور پر تجویز کیا۔شہید بینظیرآباد میونسپل کارپوریشن میں انتظامی اصلاحات کی منظوری بھی دی گئی۔کابینہ نے ضلع ملیر کے حسن سلیمان میموریل اسپتال سے منسلک نرسنگ اسکول کے قیام کے لیے چار ایکڑ سرکاری اراضی الاٹ کرنے کی منظوری دی۔اسپتال کی توسیع اور تعمیراتی لاگت میں اضافے کے باعث 7.6 ملین ڈالر (تقریباً 2.14 ارب روپے )کی مالی معاونت کی بھی منظوری دی گئی۔کابینہ نے سندھ خواتین زرعی کارکنان قواعد 2026 کی منظوری دے دی ۔

اسپیشل اکنامک زونز ایکٹ 2012 میں مجوزہ ترامیم پر بھی غور کیا جو اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلی ٹیشن کونسل کی جانب سے پیش کی گئی تھیں۔حکومت سندھ نے ایگزیکٹو زونزیا ایگزیکٹو این او سیزکی تجاویز کی باضابطہ مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس طرح کے اقدامات صوبائی اختیار اور مشترکہ مفادات کونسل کو نظر انداز کرتے ہیں جو آئین پاکستان میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد قائم کردہ آئینی ڈھانچے کے منافی ہیں۔تاہم کابینہ نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بہتر بنانے اور تنازعات کے تین ماہ کے اندر حل کے لیے اسپیشل اکنامک زونز اپیلیٹ ٹریبونل کے قیام کی حمایت کی۔کابینہ نے جسٹس (ریٹائرڈ)ارشاد علی شاہ کو سندھ ریونیو بورڈ اپیلیٹ ٹریبونل کا چیئرمین مقرر کردیا۔عبدالرحیم شیخ کو سندھ ریونیو بورڈ میں رکن (زرعی آمدنی ٹیکس)مقرر کیا گیا۔ علی احمد اللہ والا کو دی انکلو سیو سٹی اقدام کے بورڈ میں آزاد ڈائریکٹر نامزد کیا گیا۔پروفیسر سید جمال رضا کو سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیونیٹولوجی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے طور پر دو سال کی توسیع دی گئی جبکہ ڈاکٹر درِ ناز جمال کو سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کی سیکریٹری کے طور پر دو سال کی توسیع دی گئی۔

کابینہ نے انسداد دہشت گردی عدالتوں کے لیے پریزائیڈنگ افسران کی تقرری کی بھی منظوری دی جن کے تحت ایڈووکیٹ ارشاد دھاریجو کو اے ٹی سی کشمور (کندھکوٹ)، ایڈووکیٹ اعجاز چانڈیو کو اے ٹی سی نوشہرو فیروز اور ایاز حسین مری کو اے ٹی سی دادو کے لیے مقرر کیا گیا۔اختتام پروزیراعلیٰ نے انتظامیہ کو ہدایت دی کہ کفایت شعاری اقدامات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے ۔کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں سینئر وزیر اوروزیر اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ کابینہ نے بینظیر ویمن ایگریکلچرل ورکرز کارڈ جاری کرنے کی بھی منظوری دی جبکہ خواتین محنت کشوں کی فلاح و بہبود کے لیے 50 کروڑ روپے کا انڈومنٹ فنڈ قائم کیا جائے گا، پاکستان میں پہلی بار طلبہ کی حاضری کی مانیٹرنگ کے لیے موبائل ایپ اور ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کی منظوری دی گئی ہے ،حکومت سندھ نے مارکیٹ میں کسی بھی قسم کی قلت سے بچنے کے لیے موجود گندم تاجروں کو دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم کوئی امتحان ملتوی نہیں ہوگا،جمعے کے روز سرکاری ملازمین ورک فرام ہوم کریں گے جبکہ باقی چار دن دفاتر میں کام جاری رہے گا۔

انہوں نے بتایا کہ سرکاری دفاتر میں دو ماہ کے لیے ہر قسم کی ریفریشمنٹ بند کرنے کا فیصلہ ہوا، سابق نگراں وزراء اور دیگر شخصیات سے سکیورٹی واپس لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے ، کفایت شعاری اقدامات کے تحت وزیراعلیٰ کا جہاز بھی گراؤنڈ رہے گا جبکہ گندم کی خورد برد میں ملوث 25 افراد کو برطرف کر دیا گیا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں