بچوں کی سرگرمیاں آن لائن شیئر کرنا خطرناک ہو سکتا ، کیسپرسکی

بچوں کی سرگرمیاں آن لائن شیئر کرنا خطرناک ہو سکتا ، کیسپرسکی

بچوں کے نام، تاریخِ پیدائش، سکول کا مقام ظاہر کرنے سے دھوکا دہی کا خطرہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی رسائی محدود رکھیں ،انہیں شامل کریں جنہیں آپ جا نتے ہوں ،ماہرین

 اسلام آباد(نامہ نگار)کیسپرسکی کے مطابق بچوں کی سرگرمیاں آن لائن شیئر کرنا خطرناک ہو سکتاہے ۔ تقریباً 48 فیصد والدین سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر باقاعدگی سے اپنے بچوں کی تصاویر، ویڈیوز یا ان سے متعلق اپڈیٹس شیئر کرتے ہیں، 28 فیصد والدین کے اکاؤنٹس مکمل طور پر پبلک ہوتے ہیں جس کے باعث یہ مواد انٹرنیٹ پر کسی کے لیے بھی قابلِ رسائی ہو جاتا ہے ۔ 21 فیصد والدین نے اعتراف کیا کہ وہ اس لیے پوسٹ کرتے ہیں کیونکہ دوسرے لوگ بھی ایسا کرتے ہیں، جبکہ 20 فیصد کا کہنا ہے کہ انہیں تصاویر یا ویڈیوز میں اپنی شکل پسند آتی ہے ۔ کیسپرسکی میں مشرقِ وسطیٰ، ترکیہ اور افریقہ کے لیے کنزیومر چینل کے سربراہ سیف اللہ جیدیڈی کے مطابق آج جو ایک فخر کا لمحہ محسوس ہوتا ہے اس کے خطرات طویل المدتی ہو سکتے ہیں، جب والدین بچوں کے بارے میں حد سے زیادہ معلومات آن لائن شیئر کرتے ہیں تو وہ غیر ارادی طور پر حساس معلومات جیسے مکمل نام، تاریخِ پیدائش، سکول کا مقام یا روزمرہ معمولات بھی ظاہر کر دیتے ہیں ۔ ایسی معلومات شناخت کی چوری، سوشل انجینئرنگ، دھو کا دہی حتیٰ کہ جسمانی سلامتی کے خطرات کے لیے بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔ کیسپرسکی مشورہ دیتا ہے کہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی رسائی محدود رکھیں ، دوستوں کی فہرست میں صرف انہی افراد کو شامل کریں جنہیں آپ ذاتی طور پر جانتے ہوں ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں