غضب للحق:دہشتگردوں کی ہلاکتیں 641ہوگئیں،افغان خوارج پسپائی پر مجبور
افغان طالبان کی 243 چیک پوسٹیں ،219 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں تباہ،دہشتگردوں کے 65ٹھکانے نشانہ 42پوسٹوں پر قبضہ،شوال ،ژوب سیکٹر میں بھی کارروائیاں، روسی ساختہ گرینیڈ لانچر قبضے میں لے لیے گئے
اسلام آباد(خصوصی نیوز رپورٹر،نامہ نگار) پاک افغان سرحد کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں جاری ہیں جن میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں بتایا کہ آپریشن غضب للحق کے دوران 11 مارچ 2026ء کو سہ پہر 4 بجے تک فتنہ الخوارج / افغان طالبان کے 641 دہشت گرد ہلاک اور 855 سے زائد زخمی ہوگئے ۔ افغان طالبان کی 243 چیک پوسٹیں تباہ ہوئیں جبکہ 42 چیک پوسٹیں قبضہ میں لے کر تباہ کی گئیں۔ اسی طرح 219 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں تباہ کی گئیں۔ افغانستان بھر میں 65 دہشت گروں کے ٹھکانوں اور معاون مقامات کو فضائی کارروائی میں مؤثر طور پر نشانہ بنایا گیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق ژوب سیکٹر میں پاک فوج نے پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی پوسٹ نمبر 2 اور 3 کو مؤثرکارروائی میں نشانہ بنایا۔ پاک فوج کی بروقت اور بھرپور کارروائی کے نتیجے میں افغان طالبان پوسٹیں اور اسلحہ چھوڑ کر فرار ہو گئے ۔کارروائی کے دوران افغان طالبان کے زیر قبضہ پوزیشنوں سے روسی ساختہ 73 ملی میٹر ایچ جی ایل-9 ہیوی گرینیڈ لانچرز بھی قبضے میں لے لیے گئے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج کی طاقتور جوابی کارروائیاں بھارتی پراکسی افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے عناصر کو پسپائی پر مجبور کر رہی ہیں۔شمالی وزیرستان میں بھی سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں۔ شوال کے علاقے میں پاک افغان سرحد کے قریب افغان طالبان کی ایک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا جسے مو ٔثر کارروائی کے بعد تباہ کر دیا گیا۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن غضب للحق اپنے اہداف کے حصول تک جاری رہے گا اور سرحدی علاقوں میں دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔