تین ماہ میں98سائبر حملے،سیف سٹی کیمروں پر سوالات،رپورٹ طلب

تین ماہ میں98سائبر حملے،سیف سٹی  کیمروں  پر سوالات،رپورٹ طلب

صوبائی حکومتوں پر 32، وفاقی اداروں پر 21،کاروباری اداروں پر 16اور تعلیمی اداروں پر 13حملے ہوئے ویب سائٹ ہیکنگ کے سب سے زیادہ 42کیسز، ڈیٹا لیک ،ڈی ڈاس حملوں کے 17، 17واقعات رپورٹ کیا کیمرے محفوظ ؟ ار کان آئی ٹی کمیٹی ، سیف سٹی نظام محفوظ ،حملوں سے نمٹنے کیلئے فائر وال موجود ، ڈی جی

اسلام آباد ( حریم جدون )سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس کے دوران پاکستان میں سائبر سکیورٹی کے خطرات سے متعلق ڈیٹا سامنے آ گیا ہے جس کے مطابق رواں سال کے پہلے تین ماہ کے دوران مختلف شعبوں میں 98سائبر حملے رپورٹ ہوئے ہیں، جس پر کمیٹی ارکان نے سیف سٹی کیمروں کے حوالے سے سوالات اٹھا دئیے ، ارکان نے کہا کہ کیا سیف سٹی کیمرے محفوظ ہیں ؟ جس پر ڈی جی سیف سٹی ہارون جوئیہ نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ اسلام آباد سیف سٹی کا نظام محفوظ ہے اور سائبر حملوں سے نمٹنے کے لیے مؤثر سکیورٹی اقدامات اور فائر وال موجود ہے ،جس پر چیئرپرسن کمیٹی نے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ،کمیٹی نے سیف سٹی کیمروں سے متعلق مزید تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں تاکہ نگرانی کے نظام اور سائبر سکیورٹی کے معاملات کا جامع جائزہ لیا جا سکے ،دوسری طرف پاکستان میں رواں سال کے پہلے تین ماہ کے دوران مختلف شعبوں میں 98 سائبر حملے رپورٹ ہوئے ، دستاویز کے مطابق صوبائی حکومتوں پر 32 وفاقی اداروں پر 21 سائبر حملے ریکارڈ کئے گئے ۔ اس کے علاوہ کاروباری اداروں پر 16، تعلیمی اداروں پر 13 جبکہ ٹیلی کام، ہیلتھ، پاور اور میڈیا کے شعبوں میں بھی متعدد سائبر سکیورٹی واقعات رپورٹ ہوئے ،رپورٹ کے مطابق ویب سائٹ ہیکنگ کے سب سے زیادہ 42 کیسز سامنے آئے ، جبکہ ڈیٹا لیک اور ڈی ڈاس حملوں کے 17، 17 واقعات رپورٹ ہوئے ، سال 2024 میں سائبر سکیورٹی کے 410 جبکہ 2025 میں 517 واقعات ریکارڈ کئے گئے تھے ، جو بڑھتے سائبر خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں