اسلام آباد ہائیکورٹ : عمران خان کی نجی ہسپتال منتقلی کی درخواست مسترد، میڈیکل بورڈ بنانیکا حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ : عمران خان کی نجی ہسپتال منتقلی کی درخواست مسترد، میڈیکل بورڈ بنانیکا حکم

بینائی جانے پر پمز لایا گیا، اللہ نہ کرے زندگی کو کچھ ہو:کھوسہ، علاج ہو رہا یہ تسلیم شدہ، حیرانگی مخالفت بھی کر رہے :جسٹس ارباب چیف کمشنرمیڈیکل بورڈکی رپورٹ پرہسپتال منتقلی کافیصلہ کرینگے :ڈویژن بینچ،190ملین پاؤنڈ سزامعطلی کی درخواستیں مقرر

 اسلام آباد (اپنے نامہ نگار سے )اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے بانی پی ٹی آئی کی فوری شفا ہسپتال منتقلی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے حکم دیاہے کہ چیف کمشنر میڈیکل بورڈ فوری تشکیل دیں گے ،پمز کے ڈاکٹر عارف اور شفا آئی ہسپتال کے ڈاکٹر ندیم قریشی بھی بورڈ میں دیگر کے ساتھ شامل ہونگے ،میڈیکل بورڈ اپنی رپورٹ چیف کمشنر کو دے گا،چیف کمشنر رپورٹ کی روشنی میں جیل سے باہر ہسپتال میں بانی کی منتقلی کرنے یانہ کرنے کا فیصلہ کریں گے ۔دوران سماعت لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے کہ اکتوبر سے بانی پی ٹی آئی دائیں آنکھ کی بینائی کے مرض کی شکایت کر رہے ہیں ، جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیاکہ اکتوبر سے ؟ لطیف کھوسہ نے کہا جی اکتوبر سے ، فرینڈ آف کورٹ نے بھی یہی لکھا تھا۔

اڈیالہ جیل کے ڈاکٹرز نے اس معاملے کو نارمل لیا،ان کی آنکھ کی بنائی تقریباً مکمل جا چکی تو پھر انہیں پمز منتقل لایا گیا،اس دوران فیملی وکلا کو کہیں نہیں بتایا گیا،پانچ دن جب حکومت اس کو چھپاتی رہی تو خبر لیک ہوئی،پانچ دن کے بعد وزیر اطلاعات نے تسلیم کیا کہ پمز میں بانی کو لایا گیا تھا، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا درخواست ہے میں میڈیکل رپورٹ کو دوبارہ پڑھ لوں، جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا ہم نے آج کے تمام کیسز ملتوی کر دیئے ہیں آپ کو سنیں گے ،پہلے کھوسہ صاحب کو بات کرنے دیں،لطیف کھوسہ نے کہا قیدی کے بنیادی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی جارہی ہے ،بانی کی ہیلتھ اور ان کی زندگی کے حوالے سے ہمیں بہت تشویش ہے ، جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا جیل سپرنٹنڈنٹ میڈیکل آفیسر کی تجویز پر حکومت کو لکھ سکتا ہے جس پر حکومت اقدامات اٹھا سکتی ہے۔

لطیف کھوسہ نے کہا بانی چار ماہ سے آنکھ کے مسئلے کی نشاندہی کر رہے تھے لیکن نظرانداز کیا گیا،سابق وزیراعظم کی تین بار درخواست ضمانت مسترد کر کے میڈیکل گراؤنڈ پر ضمانت دی گئی تھی،آج پھر وہ اقتدار میں ہیں، پچاس روپے کے سٹام پر بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی،موجودہ وزیراعظم نے بیان حلفی دیا تھا کہ چار ہفتوں میں واپس آ جائیں گے ،جسٹس ارباب محمد طاہر نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ چار نہیں آٹھ ہفتے دیئے تھے ، لطیف کھوسہ نے کہا بانی کو فوری شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے ، دوران سماعت علیمہ خان روسٹرم پر آگئیں اور کہا بانی کی زندگی خطرے میں ہے ،بانی چار ماہ سے قید تنہائی میں ہیں کسی کو کوئی پرواہ نہیں ، بابر اعوان ایڈووکیٹ نے کہا جب نواز شریف کو میڈیکل ایشو تھا تو ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان ان کے ساتھ ہوتے تھے۔

علیمہ خان نے کہا ایک سال سے ہم ان عدالتوں کے دھکے کھا رہے ہیں ،سلمان اکرم راجہ نے کہا بانی کے ذاتی معالجین کو ماضی میں جیل میں رسائی دی جاتی رہی ،عدالت ہدایات دی سکتی ہے ،بانی پی ٹی آئی کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے جواب الجواب میں فرینڈ آف کورٹ سلمان صفدر کی رپورٹ کے علاوہ جیل سپرنٹنڈنٹ کی جمع کرائی گئی رپورٹ پڑھی، عدالت نے علیمہ خان کو دلائل کے دوران بات کرنے سے روک دیا ، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایاکہ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ آنکھ کا اسپیشلسٹ ہونا چاہیے ،شفا آئی ہسپتال کے رٹینا اسپیشلسٹ ڈاکٹر ندیم قریشی ان کے کہنے پر بورڈ میں شامل کئے گئے ،جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا ہم نے گوگل بھی کیا تھا ڈاکٹر ندیم قریشی بہترین رٹنا اسپیشلسٹ ہیں ،آپ ان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرکے ٹیسٹ کر لیں،ہم یہ نہیں کہیں گے کہ اتنے دن رکھیں اتنا وقت رکھیں۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے کہا میڈیکل بورڈ کا کوئی بھی کاغذ ہمارے پاس نہیں ہے ، جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا یہ تسلیم شدہ ہے ایشو ہے علاج ہو رہا ہے ،آپ شفا انٹرنیشنل ہسپتال بے شک دو گھنٹے کے لیے شفٹ کر دیں ہم یہ نہیں کہیں گے تین دن یا تین ماہ رکھیں،دیکھ لیں یہ ساری ذمہ داری آپ لے رہے ہیں ،اگر کل کچھ ہو گیا تو کیا آپ ذمہ داری لیں گے ؟ ، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا ہم ذمہ داری لیں گے ، جسٹس خادم حسین سومرو نے کہاکیا ریکارڈ پر لکھ دیں،جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا قانون کے مطابق فیصلہ ہو گا،اگر قیدی مطمئن نہیں تو کیا ہو گا، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہاکہ میڈیکل آفیسر کا مطمئن ہونا ضروری ہے قیدی کا نہیں، جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا آپ علاج تو کروا رہے ہیں اب چیک اپ شفا میں ہو جائے ذاتی معالجین کو رسائی دے دیں۔

عدالت نے ایڈیشنل و اٹارنی جنرل سے کہا مجھے حیرانگی ہے کہ آپ سب کر رہے ہیں پھر بھی مخالفت کر رہے ہیں ،دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا ،اس موقع پر نیازاللہ نیازی نے بولنے کی کوشش کی لیکن علیمہ خان نے خاموش کراتے ہوئے کہا آپ بات نہ کریں، بعد ازاں عدالت نے تین صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا، جس میں عدالت نے فوری ہسپتال منتقلی کی درخواست مسترد کردی اور کہا چیف کمشنر میڈیکل بورڈ فوری تشکیل دیں گے ،پمز کے ڈاکٹر عارف اور شفا آئی ہسپتال کے ڈاکٹر ندیم قریشی بھی بورڈ میں دیگر کے ساتھ شامل ہوں گے ،میڈیکل بورڈ اپنی رپورٹ چیف کمشنر کو دے گا،چیف کمشنر رپورٹ کی روشنی میں جیل سے باہر ہسپتال میں بانی کی منتقلی کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کریں گے ،جیل رولز کے مطابق جیل حکام کا قیدی کی سیریس میڈیکل کنڈیشن کے حوالے سے فیملی کو بتانا ضروری ہے۔

جیل حکام فیملی کو آگاہ کرنے کے حوالے سے جیل رولز پر قانون کے مطابق عمل کریں، جیل رولز کے مطابق حکومت کے پاس قیدی کو علاج کے لیے جیل سے باہر منتقلی کا اختیار ہے ،یہ عدالت ایگزیکٹو کے اختیار میں مداخلت نہیں کر سکتی ،جیل حکام کی رپورٹ میں بانی کی صحت میں بہتری بتائی گئی ہے ،جیل ملاقاتوں کے حوالے سے لارجر بینچ کا فیصلہ موجود ہے اسی کے مطابق عمل کیا جائے ۔دوسری طرف اسلام آبادہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کی درخواستیں 31 مارچ کو سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق وکلاء کی چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر سے ملاقات کے بعد پی ٹی آئی وکلا کو آئندہ تاریخ سے متعلق آگاہ کر دیا گیا، علاوہ ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو پرمشتمل بینچ نے توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی اور بشریٰ کی اپیلیں بروقت دائر نہ ہونے کا اعتراض ختم کر کے رجسٹرارآفس کو نمبر لگانے کاحکم دے دیا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں