چار سال کچھ نہیں ہوا، دو ماہ میں حق دفاع ختم کر دیا:جسٹس ہاشم

چار سال کچھ نہیں ہوا، دو ماہ میں حق دفاع ختم کر دیا:جسٹس ہاشم

جواب جمع نہ کرانے پر عدالت نے کوئی کارروائی یا جرمانہ کیوں نہیں کیا؟جسٹس عائشہ ہرجانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی کا حق دفاع ختم فیصلے کے خلاف نظرثانی پر سماعت ملتوی

اسلام آباد(حسیب ریاض ملک)سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف ہرجانہ کیس میں حق دفاع ختم کرنے کے فیصلے کے خلاف دائر نظرثانی درخواست کی سماعت 7  اپریل تک ملتوی کر دی۔ جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا قانون کے مطابق حق دفاع ختم کرنے کے لیے مدعی کی درخواست دائر کرنا ضروری ہے جبکہ شہباز شریف کی ایسی کوئی درخواست دائر نہیں کی گئی۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیئے بانی پی ٹی آئی نے ابتدائی جواب چار سال بعد جمع کرایا تھا۔

علی ظفر نے بتایا چار سال تک عدالتی دائرہ اختیار پر سماعت ہوتی رہی۔ جسٹس عائشہ ملک نے کہا جواب جمع نہ کرانے پر عدالت نے کوئی کارروائی یا جرمانہ کیوں نہیں کیا۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیئے چار سال تک جواب جمع نہ کرانے پر کچھ نہیں ہوا لیکن دو ماہ میں حق دفاع ختم کر دیا گیا۔ وکیل شہباز شریف مصطفی رمدے نے روسٹرم پر آ کر کہا، عدالت ٹرائل روکنے کا حکم دے چکی، مناسب ہوگا آئندہ ہفتے سماعت رکھ لیں۔ جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیئے حکم امتناع اس وجہ سے دیا گیا کہ درخواست گزار کے حقوق متاثر نہ ہوں، اگلے دو ہفتے تک بینچ دستیاب نہیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں