گل پلازہ میں 7ہائیڈرنٹس سے پانی فراہم کیا، واٹرکاپوریشن

گل پلازہ میں 7ہائیڈرنٹس سے پانی فراہم کیا، واٹرکاپوریشن

زیادہ فاصلے ، تعمیراتی کام، ٹریفک جام کے باعث جائے وقوع تک فوری رسائی متاثر ہوئی پہلی اطلاع رات 11:13پر ملی، ابتدائی مرحلے میں 3ہائیڈرنٹس سے باؤزرز روانہ کیے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کیلئے قائم جوڈیشل کمیشن میں احمد صدیقی نے رپورٹ جمع کرادی

کراچی (سٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں قائم سانحہ گل پلازہ جوڈیشل کمیشن میں کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے اپنی رپورٹ جمع کرا دی ،جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ادارے نے آگ بجھانے کی کارروائی کے دوران اپنے 7 ہائیڈرنٹس کے ذریعے پانی کی فراہمی یقینی بنائی اور ہنگامی صورتحال میں واٹر باؤزرز روانہ کیے ۔چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد علی صدیقی نے کمیشن کے سوالنامے کے جواب میں تفصیلی رپورٹ جمع کرائی، جس میں کہا گیا کہ گل پلازہ میں 17 جنوری کو پیش آنے والے واقعہ کے دوران ادارے کو ہنگامی اطلاع ملنے کے بعد فوری اقدامات کیے گئے ۔ ریسکیو 1122 کو آگ کی پہلی اطلاع رات 10 بجکر 56 منٹ پر موصول ہوئی جبکہ کے ڈبلیو اینڈ ایس سی کے فوکل پرسن برائے ہائیڈرنٹ افیئرز کو یہ اطلاع 11 بجکر 13 منٹ پر موصول ہوئی۔ 11 بجکر 5 منٹ پر کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے سینئر فائر آفیسر کی جانب سے کے ڈبلیو اینڈ ایس سی کے آفیشل واٹس ایپ گروپ میں بھی آگ سے متعلق پیغام موصول ہوا، جس کی بھی 11 بجکر 13 منٹ پر تصدیق کی گئی۔ اطلاع کے فوراً بعد اپنے تمام 7 قانونی ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے وہاں سے واٹر باؤزرز روانہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

ابتدائی مرحلے میں نیپا، صفورا اور سخی حسن ہائیڈرنٹس سے باؤزرز روانہ کیے گئے جبکہ آگ کی شدت میں اضافے کے باعث بعد ازاں دیگر ہائیڈرنٹس سے بھی اضافی باؤزرز طلب کیے گئے ۔ ادارے نے رات 11 بجکر 56 منٹ سے مسلسل واٹر باؤزرز کے ذریعے پانی کی فراہمی جاری رکھی تاکہ آگ بجھانے کے عمل میں معاونت فراہم کی جا سکے ۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ شہر میں قائم فائر ہائیڈرنٹس کی فعالیت، ان میں پانی کے دباؤ اور آگ کے وقت پانی کے پریشر سے متعلق سوالات دراصل کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے فائر بریگیڈ ڈپارٹمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ اسی طرح پانی کے دباؤ کی ریکارڈنگ اور اس کی نگرانی بھی فائر بریگیڈ کی ذمہ داری قرار دی گئی ہے ۔ ادارہ اپنے 7 قانونی ہائیڈرنٹس کے معائنے اور دیکھ بھال کا ریکارڈ باقاعدگی سے محفوظ رکھتا ہے ، تاہم گل پلازہ کے قریب واقع فائر اسٹیشن اور ہائیڈرنٹس سے متعلق بنیادی معلومات کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی جانب سے فراہم کی گئی ہیں۔ واقعہ سے قبل بھی فائر بریگیڈ ڈپارٹمنٹ کو ہائیڈرنٹس اور پانی کی فراہمی سے متعلق بعض امور پر خط لکھا گیا تھا۔

دستاویز کے مطابق 26 دسمبر 2024 کو کے ڈبلیو اینڈ ایس سی کی جانب سے فائر بریگیڈ ڈپارٹمنٹ کو ایک مراسلہ ارسال کیا گیا، جس میں فائر گاڑیوں کے لیے ٹینکرز فراہم کرنے ، آگ بجھانے کے لیے مخصوص پانی کے ذخیرے کی تعمیر، پانی کے باقاعدہ کنکشن کے لیے درخواست جمع کرانے اور ہفتہ وار پانی کے استعمال کی رپورٹ فراہم کرنے کی درخواست کی گئی تھی، تاہم اس خط کا تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ رپورٹ میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ قانون کے تحت کے ڈبلیو اینڈ ایس سی کا بنیادی کام شہر میں پانی کی فراہمی اور تقسیم ہے اور ادارہ فائر فائٹنگ ہائیڈرنٹس کی دیکھ بھال یا پریشرائزڈ پانی فراہم کرنے کا قانونی طور پر ذمہ دار نہیں۔

فائر ہائیڈرنٹس اور آگ بجھانے کے لیے پریشرائزڈ پانی کی فراہمی کی ذمہ داری کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن اور اس کے فائر بریگیڈ ڈپارٹمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتی ہے ۔ اس کے باوجود ادارہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مکمل تعاون فراہم کرتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اپنے قانونی ہائیڈرنٹس سے واٹر باؤزرز فراہم کرتا ہے جیسا کہ گل پلازہ کے واقعہ میں بھی کیا گیا۔ کے ڈبلیو اینڈ ایس سی روزانہ 6 گھنٹے کے لیے مرکزی فائر اسٹیشن اور صدر کے رینبو سینٹر میں قائم فائر اسٹیشن کو اپنے پائپ لائن نیٹ ورک کے ذریعے پانی فراہم کرتا ہے اور اس امر کی تصدیق کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے چیف فائر آفیسر کی جانب سے بھی کی جا چکی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق آگ بجھانے کے عمل میں بعض عملی مشکلات بھی پیش آئیں جن میں جائے وقوعہ تک فاصلے کا زیادہ ہونا، اطراف میں جاری تعمیراتی کام اور شدید ٹریفک جام شامل تھے ، جس کے باعث فائر فائٹنگ آپریشن تک فوری رسائی متاثر ہوئی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں