پاکستان دہشتگرد ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ، طالبان پریشانی میں اضافہ
بدلتی علاقائی صورتحال میں چین کو مذاکراتی حکمت عملی پر غور کرنے کی ضرورت
(تجزیہ:سلمان غنی)
خبر ہے کہ چین ایک بار پھر پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرانے اور مذاکرات کے آغاز کیلئے سرگرم ہے ۔ پاکستان کا موقف ہے کہ وہ مذاکرات کیلئے تیار ہے ، تاہم افغان طالبان کی جانب سے اس بات کی واضح اور قابلِ اعتماد گارنٹی ضروری ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہوگی۔ماضی میں قطر، ترکیہ اور سعودی عرب کی کوششوں سے شروع ہونے والا مذاکراتی سلسلہ بھی اسی نکتے پر آ کر رُک گیا تھا۔ کئی برس تک جاری رہنے والی اس سفارتی کاوش کے باوجود افغان طالبان پاکستان کو یہ یقین دہانی کرانے پر آمادہ نہ ہو سکے کہ ان کی سرزمین دہشت گرد تنظیموں کیلئے استعمال نہیں ہوگی۔ یہی بنیادی مسئلہ آج بھی دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی کا سبب بنا ہوا ہے ۔پاکستانی مؤقف کے مطابق افغان طالبان کی اپنی سرزمین پر مکمل عملداری بھی ایک سوال ہے ، جس کے باعث ٹی ٹی پی اور دیگر شدت پسند گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں ہو سکی۔ ناقدین کے مطابق طالبان ان گروہوں کے خلاف سخت کارروائی سے گریز کرتے ہیں تاکہ پاکستان پر دباؤ برقرار رکھا جا سکے ۔
دوسری جانب پاکستان نے حالیہ مہینوں میں دہشت گردی کے خلاف سخت حکمتِ عملی اپناتے ہوئے سرحد پار موجود ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کیا ہے ۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر کوئی ملک اپنی سرزمین پر دہشت گردی روکنے میں ناکام ہو تو متاثرہ ملک کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے دفاع میں کارروائی کا حق حاصل ہوتا ہے ۔ اسی اصول کے تحت پاکستان دہشت گردی کے خلاف اقدامات کر رہا ہے ۔ذرائع کے مطابق جب دہشت گردوں کے ٹھکانے اور اسلحہ کے مراکز نشانہ بن رہے ہیں تو افغان طالبان کی پریشانی میں اضافہ نظر آ رہا ہے ۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عملی طور پر وہ کام پاکستان کر رہا ہے جو طالبان حکومت کو خود کرنا چاہیے تھا۔جہاں تک چین کا تعلق ہے تو پاکستان اسے قریبی دوست اور اہم علاقائی طاقت سمجھتا ہے اور اس کی تجاویز کو سنجیدگی سے لیتا ہے ، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ چین کو مذاکراتی عمل آگے بڑھانے سے پہلے قطر اور ترکیہ کی سابقہ کوششوں کی ناکامی کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔ ان ممالک نے اس لیے پسپائی اختیار کی کیونکہ طالبان کسی تحریری ضمانت پر آمادہ نہیں ہوئے تھے ۔اس وقت پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ وہ دوست ممالک کی تجاویز کو رد نہیں کرتا اور مذاکرات کیلئے تیار ہے ، مگر اس کے لیے افغان طالبان کو دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات اور تحریری یقین دہانی دینا ہوگی۔ بصورتِ دیگر مذاکراتی عمل مؤثر اور قابلِ عمل نہیں ہو سکے گا۔ بدلتی علاقائی صورتحال میں چین کو مذاکراتی حکمت عملی پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔