پاکستان کی حیاتیاتی تنوع سے متعلق7ویں رپورٹ یو این میں جمع

پاکستان کی حیاتیاتی تنوع سے متعلق7ویں رپورٹ یو این میں جمع

2030تک حیاتیاتی تنوع کا نقصان روکنے کیلئے 23عالمی اہداف مقرر کیے گئے رپورٹ میں واضح کیا گیا ہمیں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں کئی چیلنجز کا سامنا ،سلیم شیخ

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)پاکستان نے عالمی حیاتیاتی تنوع کنونشن کو اپنی ساتویں قومی رپورٹ جمع کرا د ی ۔ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی ہم آہنگی کے میڈیا ترجمان محمد سلیم شیخ نے بتایا رپورٹ میں 2030 تک حیاتیاتی تنوع کے نقصان کو روکنے اور اس کے برعکس رجحان پیدا کرنے کے لیے 23 عالمی اہداف مقرر کیے گئے ہیں ،اس فریم ورک کے تحت پیش رفت کا جائزہ کنونشن آن بائیولوجیکل ڈائیورسٹی کی کانفرنس آف پارٹیز کے 17ویں اجلاس کے دوران لیا جائے گاجو 19 سے 30 اکتوبر کو آرمینیا کے شہر یریوان میں منعقد ہوگا۔ ساتویں رپورٹنگ سائیکل میں کنمنگ،مونٹریال فریم ورک کے تحت زیادہ منظم مانیٹرنگ نظام متعارف کرایا گیا ہے ،رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنگلات کے رقبے میں معمولی اضافہ ہوا ہے اور اس وقت یہ ملک کے مجموعی رقبے کا تقریبا 5.4 فیصد ہے ۔انہوں نے کہا کہ حیاتیاتی تنوع کو مکانی منصوبہ بندی میں شامل کرنا اس لیے ضروری ہے کیونکہ غیر منصوبہ بند زمین کے استعمال میں تبدیلی حیاتیاتی تنوع کے نقصان کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے ۔ رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان کو حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں کئی چیلنجز کا سامنا ہے ، مختلف صوبوں اور شعبوں میں مکانی منصوبہ بندی کے نفاذ میں عدم توازن، زمین کی ملکیت کے تنازعات اور تجاوزات جیسے مسائل حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں