عید الفطر : پاکستان اور افغانستان میں عارضی سیز فائر

 عید الفطر : پاکستان اور افغانستان میں عارضی سیز فائر

آپریشن غضب للحق 23اور 24مارچ کی درمیانی رات تک روکا،سرحد پار حملے یا دہشتگردی پر دوبارہ شروع کر دینگے :وزیر اطلاعات ، طالبان کا بھی عارضی وقفے کا اعلان، سعودی عرب ، قطر کا خیرمقدم،مذاکرات پر زور کابل میں ہدف گولہ بارود ،ڈرون طیاروں کا ڈپو تھا،بارودپھٹنے سے دھماکے سب نے دیکھے ،سویلینز ہلاکتوں کا پراپیگنڈا جھوٹ،افغان طالبان کو ڈرون بھارت دے رہا:ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف

اسلام آباد(خصوصی نیوز رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک)عید الفطر کے احترام میں پاکستان اور افغانستان میں عارضی سیزفائر ہوگیا،وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پراپنے بیان میں کہا عید الفطر کے اسلامی تہوار کے پیش نظر حکومت پاکستان نے اپنی جانب سے اقدام اٹھاتے ہوئے اور برادر اسلامی ممالک سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کی درخواست پر افغانستان میں دہشت گردوں اور ان کے معاون انفراسٹرکچر کے خلاف جاری آپریشن غضب للحق میں عارضی وقفے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ وقفہ 18 اور 19 مارچ کی درمیانی شب سے 23 اور 24 مارچ 2026 کی درمیانی شب تک موثر رہے گا۔ پاکستان یہ اقدام نیک نیتی اور اسلامی اقدار کے مطابق کر رہا ہے تاہم کسی بھی سرحد پار حملے ، ڈرون حملے یا پاکستان کے اندر کسی بھی دہشت گردی کے واقعہ کی صورت میں آپریشن غضب للحق فوری طور پر از سر نو شدت کے ساتھ دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔

دوسری طرف افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں عارضی وقفے کا اعلان کیا ہے ۔ایکس پر پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ عارضی وقفے کا فیصلہ عید الفطر کی مناسبت سے کیا گیا ہے ۔ اس حوالے سے سعودی عرب، ترکی اور قطر کی طرف سے درخواستیں کی گئی تھیں۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا طالبان حکومت دوست ممالک کی کوششوں کو سراہتی ہے مگر افغانستان کی قومی سلامتی اور دفاع ایک قومی اور مذہبی فریضہ ہے ۔ خطرے کی صورت میں امارتِ اسلامی جواب دے گی۔قطر اور سعود ی عرب نے جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک مذاکرات کے ذریعے معاملات کو حل کریں۔

سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا سعودی عرب قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کو سراہتا ہے اور سعودی عرب اس بات پر زور دیتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان امن کی کوششوں کو ملکر دوام بخشیں اور معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں اور خطے کے امن اور عوام کی سلامتی کیلئے ضروری ہے کہ امن کو فروغ دیا جائے۔قطر ی وزارت خارجہ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام کشیدگی کے خاتمے میں مدد فراہم کرے گا،عارضی جنگ بندی مستقل اور پائیدار جنگ بندی کا راستہ ہموار کرے گی،قطر کی ریاست اپنے سفارتی اقدامات جاری رکھے گی۔خیال رہے آپریشن غضب للحق کے تحت اب تک 707 فتنہ الخوارج اور طالبان ہلاک اور 938 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ 255 افغان چوکیوں کو تباہ اور 44 چوکیوں پر قبضہ کیا گیا۔ 237 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانہ کو بھی تباہ کیا گیا جب کہ افغانستان بھر میں 81 دہشت گردوں اور ان کے معاون انفراسٹرکچر کے مقامات کو فضائی کارروائیوں کے ذریعے مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا۔

عطا تارڑ کے مطابق 16 مارچ کی رات، پاکستان کی مسلح افواج نے کابل اور ننگرہار میں افغان فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، ان حملوں میں پاکستانی افواج نے کابل اور ننگرہار میں ڈرون ذخیرہ گاہوں، تکنیکی معاونت کے مراکز اور اسلحہ گوداموں کو تباہ کیا۔ یہ مراکز افغان طالبان اور دہشت گرد عناصر کی جانب سے بے گناہ پاکستانی شہریوں کے خلاف حملوں کیلئے استعمال ہو رہے تھے ۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے باجوڑ، کرم، طورخم خیبر، شمالی اور جنوبی وزیرستان کے علاقوں میں افغان طالبان کی چوکیوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنا کر تباہ کیا۔دوسری جانب منسلک ویڈیو میں پاکستان کی جانب سے ان تنصیبات، چوکیوں اور دہشت گرد کیمپوں کے خلاف کی گئی درست کارروائیوں کو دکھایا گیا ہے ، جو افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کی براہِ راست یا بالواسطہ حمایت کرتے ہیں۔

وفاقی وزیراطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ افغان حکام اور میڈیا کے بعض حلقوں کی جانب سے کیے جانے والے دعوؤں کے برعکس کسی بھی شہری آبادی یا انفراسٹرکچر کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔گزشتہ روز آپریشن غضب للحق کے تحت شمالی وزیرستان میں پاک فوج نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف مؤثر آپریشن کے دور ان موازکلے کے سرحدی علاقے میں دہشت گرد وں کی دراندازی کی منصوبہ بندی کو ناکام بنا دیا ۔کارروائی کے دوران متعدد افغان طالبان ہلاک ہوئے اور دیگر پوسٹیں چھوڑ کر فرار ہوگئے ۔ پاک فوج نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے کمپاؤنڈ اور ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر مکمل تباہ کر دیا۔ دوسری جانب سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے پاک افغان سرحد پر جنوبی وزیرستان سیکٹر میں افغان طالبان کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا، شوال سے زرملان تک افغان طالبان کی تمام پوسٹوں کو تباہ کردیا گیا۔

پاک فوج کی بھرپور کارروائیوں سے افغان طالبان پسپائی کا شکار ہو کر فرار ہوگئے ۔آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں اہداف کے حصول تک جاری رہیں گی۔ دوسری جانب عوامی حلقوں اور شہریوں نے پاک فوج کے اقدام کو سراہا اور اسے ملک میں امن کے قیام کیلئے ناگزیر قرار دیا۔ شہریوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین کے دفاع میں ہر حد تک جانے کی صلاحیت رکھتا ہے ، دشمن عناصر کے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار بنانے کی کوششیں ناکام رہیں گی اور افواجِ پاکستان بین الاقوامی اصولوں اور انسانی اقدار کا ہر وقت خیال رکھتی ہیں۔شہریوں نے کہا کہ سویلین آبادی کو نشانہ بنانے کے الزامات جھوٹے اور گمراہ کن ہیں، جبکہ افغانستان کے الزامات دراصل اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات جاری رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور پوری قوم اپنی افواج کے ساتھ متحد ہے ۔

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ کابل میں ہدف افغان طالبان کے گولہ بارود اور ہتھیاروں کے علاوہ ڈرون طیاروں کا ڈپو تھا۔ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا یہ گولہ بارود پھٹنے سے جو دھماکے ہوئے انہیں پورے شہر نے دیکھا۔ حملے میں سویلینز کی ہلاکتوں کا پروپیگنڈا جھوٹ ہے، طالبان کے اکثر جنگجو وردی نہیں سویلین لباس پہنتے ہیں۔ طالبان منشیات کے عادی افراد کو خودکش حملوں کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ افغانستان کے اندر کی جانے والی 81 سٹرائیکس میں ہدف کو درستی سے نشانہ بنانے والااسلحہ استعمال کیا گیا جس سے بغیر کولیٹرول ڈیمیج کے مطلوبہ ہدف کو نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ ہمارے پاس ریکارڈ اور فوٹیج موجود ہے کہ ہم نے ایمونیشن ڈپو کو نشانہ بنایا۔

ایمونیشن ڈپو اور ڈرون سٹوریج سائٹ جیسی خالصتاً ملٹری کمپاؤنڈ میں منشیات بحالی ہسپتال کی موجودگی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والے ڈرون افغان طالبان کو بھارت فراہم کر رہا ہے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی افغان عوام سے کوئی لڑائی نہیں انہیں تو خود دہشتگردوں نے یرغمال بنا رکھا ہے ۔ افغان طالبان رجیم دہشتگرد قیادت کی لوکیشن تبدیل کر کے اسے مسلسل پناہ دیتا ہے ۔ اب افغان طالبان رجیم کو دہشتگردی کی سہولتکاری کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔ جنگ کا خاتمہ صرف ایک ہی صورت ممکن ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کیخلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کروائی جائے۔

افغان طالبان سے اس سے پہلے بھی براہ راست، دوست ممالک کے ذریعے بات چیت ہوئی جس میں صرف اسی بات کی گارنٹی مانگی گئی کہ افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام، حکومت اور افواج نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم ہر صورت دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے ، اب افغان طالبان کو سوچنا چاہیے کہ انہیں ٹی ٹی پی کو بچانا ہے یا پھر افغانستان کو۔کیا سویلین اموات کا جھوٹا پراپیگنڈا کرنے والے پاکستانی معصوم شہریوں کی شہادت کیلئے جواب دہ نہیں؟ ان دہشتگردوں اور ان کی قیادت کو اپنے گھناؤنے جرائم کے ارتکاب کیلئے جواب دہ ہونا پڑے گا، اس کیلئے ان کو پاتال سے نکال کر انجام تک پہنچایا جائیگا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں