ایران میں جنگ، پاکستان میں سمگل شدہ پٹرول کی سپلائی آدھی
جنگ سے پہلے قیمتیں اچھی تھیں،پٹرول 150 لٹر ملتا تھا،اب نرخ 190 روپے ہیں:نوجوان پہلے ایک گاڑی سے 40 سے 50 ہزار روپے منافع کماتے ، خریدار بھی فوراً مل جاتے :حکیم اللہ ’’ پانچ دن سے یہاں ہیں، لیکن ایسے مناسب نرخ نہیں مل رہے جن پر اپنا مال فروخت کر سکیں ‘‘
مستونگ (اے ایف پی)پاکستان کے جنوب مغربی پہاڑی علاقوں میں ایران سے سمگل شدہ ایندھن کے پلاسٹک کے ڈرموں سے لدے پک اپ ٹرک دھول بھری سڑکوں پر نظر آتے ہیں۔نوجوان یہ ڈرم اتارتے ہیں، چھوٹے کینز میں پٹرول بھر کر موٹر سائیکلوں پر باندھ دیتے ہیں تاکہ قریبی بازاروں تک پہنچایا جا سکے۔یہ غیر قانونی تجارت اس خطے میں طویل عرصے سے جاری ہے ، لیکن مشرق وسطیٰ میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد چھڑنے والی جنگ کے اثرات اس پر بھی پڑ رہے ہیں۔پاکستان اور ایران کے درمیان تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد کے ذریعے آنے والی سپلائی تقریباً نصف ہو گئی ہے ، جس کے نتیجے میں قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔35 سالہ ڈرائیور حکیم اللہ نے اے ایف پی کو بتایا، جنگ سے پہلے قیمتیں اچھی تھیں۔ہمیں پٹرول 150 روپے فی لیٹر ملتا تھا۔اب جنگ کے بعد، پٹرول کی قیمت 190 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
حکیم اللہ بلوچستان کے سرحدی قصبوں میں درجنوں نوجوانوں میں سے ایک ہیں جو ہر روز ایران سے ایندھن لے کر آگے پہنچاتے ہیں۔یہ کام وہ نیلے رنگ کے ایرانی ساختہ زمیاد ٹرکوں کے ذریعے کرتے ہیں۔ایک وقت تھا جب ہر سفر انہیں باقاعدہ منافع دیتا تھا، لیکن اب قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی میں رکاوٹ کی وجہ سے ان کا منافع تقریباً نصف رہ گیا ہے۔ کوئٹہ سے تقریباً 50 کلومیٹر جنوب میں واقع مستونگ میں حکیم اللہ نے بتایا: ہم ایک گاڑی سے تقریباً 40 سے 50 ہزار روپے کا منافع کماتے تھے ، اور خریدار بھی فوراً مل جاتے تھے ۔پچھلے پانچ دن سے ہم یہاں کھڑے ہیں، لیکن ہمیں ایسا مناسب نرخ نہیں مل رہا جس پر ہم فروخت کر سکیں۔ پاکستان کا سب سے بڑا اور قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ - جو سب سے کم آباد بھی ہے - اپنے تعلیم، روزگار اور معاشی ترقی کے حوالے سے ملک کے دیگر حصوں سے پیچھے ہے۔
عام طور پر، پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہونے پر لوگ غیر قانونی راستوں کی طرف رجوع کر جاتے ہیں۔یہ لوگ سرحد کے ساتھ بنجر صحرا کی پگڈنڈیوں اور پہاڑی گزر گاہوں کا استعمال کرتے ہیں، جو ایرانی سرحدی قصبوں کو پاکستانی اضلاع جیسے پنجگور، تربت اور ساحلی شہر گوادر سے جوڑتی ہیں۔ایندھن پھر سینکڑوں کلومیٹر کی مسافت طے کر کے مستونگ پہنچایا جاتا ہے ، جہاں اسے اتار کر جیری کین میں موٹر سائیکلوں پر باندھ کر مقامی بازاروں میں منتقل کیا جاتا ہے ۔ڈرائیورز نے سپلائی میں کمی اور قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس کے روزگار پر اثرات کو بھی تشویش کا باعث قرار دیا۔28 سالہ فضل محمد نے کہا، بلوچستان میں کوئی صنعتی شعبہ نہیں اور سرکاری ملازمتیں محدود ہیں۔ وہ اور درجنوں دیگر افراد موٹر سائیکل کے ذریعے پٹرول لے کر کوئٹہ کے بازاروں تک پہنچنے کے خطرناک سفر پر نکلے ۔انہوں نے مزید کہا، "ہمیں اس پیشے میں آنے پر مجبور کیا گیا، جہاں شام کو کم از کم 2 ہزار سے 3 ہزار روپے کماتے ہیں۔