ایندھن ذخائر محدود، توانائی بحران شدت اختیار کرنے لگا

ایندھن ذخائر محدود، توانائی بحران شدت اختیار کرنے لگا

ایل این جی ذخائر صرف 9 دن کیلئے باقی ،آئندہ گیس کی دستیابی مزید متاثر ہوسکتی ملک میں ہائی سپیڈ ڈیزل 21 ، جیٹ فیول 14 ،خام تیل ذخائر 11 دن کیلئے موجود بجلی پیداواری لاگت بڑھنے ،صارفین پر بوجھ پڑنے کا خدشہ،ماہرین

کراچی،لاہور(سٹاف رپورٹر،اپنے کامرس رپورٹر سے )پاکستان میں توانائی بحران کے خطرات شدت اختیار کرنے لگے ، پیڑولیم ذرائع کے مطابق ملک میں ایندھن کے ذخائر کم رہ گئے ، ایل این جی ذخائر صرف 9 دن کیلئے باقی ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری  جنگ  کے باعث قطر سے آنے والی ایل این جی شپمنٹس متاثر ہے ، جسکے نتیجے میں توانائی سپلائی چین شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ذرائع کے مطابق جنگی صورتحال کے باعث پاکستان کی تقریباً 70 فیصد سے زائد ایل این جی سپلائی متاثر ہوئی، کیونکہ ملک بڑی حد تک قطر پر انحصار کرتا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ جنگی حالات کے سبب قطرسے آنے والے بعض ایل این جی کارگوز منسوخ ہونے کا خدشہ ہے جس سے آئندہ ہفتوں میں گیس کی دستیابی مزید متاثر ہوسکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملکی ایل این جی درآمدی ٹرمینلز انتہائی کم سطح پر کام کر رہے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ رواں ماہ کے اختتام تک ایک ٹرمینل کا آپریشن مکمل بند ہو سکتا ہے ، حکومت نے صورتحال کے پیش نظر قطر اور اٹلی سے ایل این جی کارگوز کے حصول کیلئے دوبارہ رابطے شروع کر دیئے ہیں، تاہم عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے کے باعث فوری خریداری مشکل ہوگئی ہے ۔ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث ایل این جی کی اسپاٹ قیمت 25 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے تجاوز کرگئی، جس سے درآمدی لاگت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے ۔ دوسری جانب پٹرولیم ذرائع کے مطابق ملک میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کے ذخائر 21 دن، جیٹ فیول 14 دن جبکہ خام تیل کے ذخائر 11 دن کیلئے موجود ہیں۔

توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایل این جی کی فراہمی متاثر رہی تو بجلی کی پیداوار جاری رکھنے کیلئے مہنگے فرنس آئل پر انحصار بڑھانا پڑے گا جس سے بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافہ اور صارفین پر مزید بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے ، ادھر ایل پی جی کی قیمتوں نے بھی عوام اور صنعتوں کو شدید پریشان کردیا ہے ، سرکاری قیمت 225 روپے فی کلو ہونے کے باوجود مارکیٹ میں ایل پی جی کی قلت ہے اور بلیک مارکیٹ میں قیمت 450 سے 500روپے فی کلو تک وصول کی جارہی ہے ایل پی جی ڈسٹری بیوشن چین میں خلل، بڑھتی طلب اور ذخیرہ اندوزی کے باعث آئندہ دنوں میں صورتحال مزیدخراب ہونے کے خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں، توانائی شعبے کے ماہرین کے مطابق ایل این جی اور ایل پی جی دونوں کی قلت کے باعث ملک میں قدرتی گیس کا شارٹ فال بڑھنے کا خدشہ ہے، جسکے اثرات صنعتی پیداوار، برآمدات اور تجارتی سرگرمیوں پر مرتب ہوسکتے ہیں۔

صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ گیس کی غیر یقینی فراہمی کے باعث پیداواری لاگت میں اضافہ اور کاروباری سرگرمیوں میں سست روی پیدا ہورہی ہے جس سے معیشت پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے ۔ ادھرملک میں سوئی ناردرن کا گیس شارٹ فال 700 ملین کیوبک فٹ سے تجاوز کرگیا، ذرائع کے مطابق گھریلو صارفین کے لیے گیس فراہمی محدود کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے اورصرف کھانے کے اوقات میں فل پریشر گیس فراہم کی جائے گی۔ معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت متبادل انتظامات نہ کئے گئے تو ملک کو گیس لوڈشیڈنگ، مہنگی بجلی اور صنعتی بحران جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گاجبکہ توانائی کی بڑھتی قیمتیں مہنگائی میں مزید اضافے کا سبب بنیں گی اور اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے اسٹیٹ بینک بھی آئندہ زری پالیسی میں شرح سود میں اضافہ کرسکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں