’’امریکا و اسرائیل کا ایک ایجنڈا، ایران اپنی بقا کی جنگ لڑرہا ‘‘

’’امریکا و اسرائیل کا ایک ایجنڈا، ایران اپنی بقا کی جنگ لڑرہا ‘‘

ایران مذاکرات نہیں چاہتا ،امریکا ایران کو تقسیم کرنا چاہتاتھا :حسن رضا نقوی پاکستان کی طرف سے خاص پیشرفت نہ ہوئی :باقر سجاد ، ’’دنیا مہر بخاری کیساتھ‘‘

لاہور (دنیا نیوز ) تہران سے تجزیہ کار ڈاکٹر حسن رضا نقوی نے کہا کہ اس وقت ایران کے ایجنڈے میں مذاکرات شامل نہیں ہیں ، ایران نے کہا ہے کہ امریکا کا ہدف اس مرتبہ رجیم چینج نہیں تھا بلکہ ایران کو 5 حصوں میں تقسیم کرنا تھا ، ایک حصہ امریکا نے اپنے پاس رکھنا تھا ، جس میں اوشیر صوبہ ،اوزستنان کا صوبہ اور اعیلان کا صوبہ شامل ہے ، یہاں ایران کا سب سے زیادہ پٹرول پایا جاتا ہے ۔ دنیا نیوز کے پروگرام ‘‘دنیا مہر بخاری کے ساتھ’’ میں انہوں نے کہاکہ امریکی نقشہ کے مطابق ان علاقوں کو امریکا نے اپنے قبضے میں رکھنا تھا ، باقی ایران کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنا چاہتا تھا ، ایران کی انٹیلی جنس نے جب موساد کے ہیڈ کوارٹرز پر قبضہ کیا تو وہاں سے دیگر 40 ہزار دستاویزات میں یہ نقشے بھی برآمد ہوئے۔

اس وقت ایران نے اسی کے مطابق جنگ کی حکمت عملی اپنائی ہوئی ہے ، ایران اس وقت اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے ، امریکا اور اسرائیل کا بالکل ایک ہی ایجنڈا ہے۔ صحافی و تجزیہ کار، ماہر خارجہ امور باقر سجاد نے کہا کہ پاکستان کی مذاکرات بارے جو بات چل رہی ہے وہ نئی نہیں، پچھلے سال بھی جنگ کے دوران یہی کو شش تھی ، اس وقت ایران کو تحفظات تھے اسی لیے انہوں نے عمان کو چنا تھا اور وہاں مذاکرات ہوئے تھے ، پاکستان کی طرف سے ابھی کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے ، ابھی تو صرف پیغام رسانی ہو رہی ہے ، اِدھر کا پیغام اُدھر اور اُدھر کا پیغام اِدھر ۔ معاملات تو تب ہونگے جب کچھ دو کچھ لو ،کا مرحلہ شروع ہو گا اور وہ ابھی شروع نہیں ہوا ہے ، ایران نے پہلے ہی سختی سے اعلان کر رکھا ہے کہ ہماری شرائط کو منوائیں پھر مذاکرات کی میز پر آئیں گے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں