ایک ماہ کیلئے سمارٹ لاک ڈاؤن ، دفاتر میں ہائبرڈ ورکنگ تجویز

 ایک ماہ کیلئے سمارٹ لاک ڈاؤن ، دفاتر میں ہائبرڈ ورکنگ تجویز

بازار رات ساڑھے 9بجے بند ، شادی تقریبات میں محدودمہمان ،ون ڈش اجازت

 اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر) وفاقی حکومت نے خطے کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر توانائی کی بچت کے لئے ملک بھر میں سمارٹ لاک ڈاؤن کی حکمت عملی تیار کر لی ، رائع کے مطابق حکومت کا کفایت شعاری اقدامات مزید سخت کرنے کا پلان ہے تاہم قومی سطح پر مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ ہوگا،ذرائع نے بتایا کہ توانائی اور فیول بچت کے لئے ہائبرڈ ورکنگ پالیسی پر غور کیا جارہاہے جو ایک ماہ کیلئے نافذ کرنے کی تجویز ہے ،ہائبرڈ ورکنگ ماڈل کے تحت 5 دن کام کرنے والے عام حکومتی دفاتر میں ہفتے میں 3 دن دفتر اور باقی 2 دن آن لائن کام کی تجویز ہے ، ا ن کے دفتری اوقات صبح ساڑھے 8 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک ہوں گے ۔ 6 دن کام کرنے والے دفاتر میں ہفتے میں 4 دن دفتر اور باقی 2 دن آن لائن کام کی تجویز ہے ۔ ان دفاتر کے اوقات کار صبح ساڑھے 8 بجے سے دوپہر ڈیڑھ بجے تک مقرر کئے جانے کا امکان ہے ۔

ایندھن اور وسائل کی بچت کیلئے دفاتر میں 50 فیصد روٹا سسٹم لاگو کرنے کی تجویز دی گئی ، ہر آفس کیلئے کم از کم 65 فیصد حاضری لازمی ہوگی، پرائیویٹ دفاتر میں 50 فیصد حاضری اور 50 فیصد آن لائن ورکنگ کی تجویز ہے ۔ افسران فیول کٹوتی کے باعث مشترکہ گاڑی استعمال کرسکیں گے ، نجی یا فیملی فنکشنز کیلئے گاڑیوں کے استعمال پر پابندی ہوگی۔ خلاف ورزی پر 3 ماہ کی فیول ریکوری اور 3 ماہ کیلئے گاڑی ضبط ہوگی۔ افسران صبح ساڑھے 10 بجے سے پہلے اے سی استعمال نہیں کرسکیں گے ،دفاتر کا 50 فیصد لوڈ سولر پر شفٹ کیا جائے گا،تعلیمی اداروں میں ہفتے میں 3 دن حاضری اور 3 دن آن لائن کام کی تجویز ہے ، بازار رات ساڑھے 9 بجے بند کئے جائیں گے ۔ شادی تقریبات 200 مہمانوں تک محدود ہوگی ، صرف ون ڈش کی اجازت ہوگی ، تقریب رات 10 بجے تک ختم کرنا ہوگی،بجلی کمپنیوں کے ملازمین کیلئے اگلے 3 ماہ کے دوران فیول رعایت میں 50 فیصد کمی کی جائے گی، انٹرنیٹ اور ٹیلی فون ٹیکس میں 2.5 فیصد کمی جبکہ پراپرٹی اور گاڑیوں کی خرید و فروخت پر موجودہ ٹیکس میں 5 فیصد اضافہ کیا جائے گا ، ٹول ٹیکس میں اضافے اور ریلوے پر سفر کی ترغیب کے لئے ریلوے ٹکٹوں پر 15 فیصد رعایت کی تجویز ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں