مشرقِ وسطیٰ کشیدگی ،تیل و تجارت کی شہ رگ خطرے میں

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی ،تیل و تجارت کی شہ رگ خطرے میں

آبنائے ہرمز ،باب المندب کی ممکنہ بندش ،سپلائی چین مفلوج ہونے کا خدشہ

اسلام آباد(الماس حیدرنقوی)مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث خلیج فارس پر واقع آبنائے ہرمزپر ایرانیوں کے کنٹرول کے بعد ایرانی اتحادی یمنی حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمرپرباب المندب جیسی اہم آبی گزر گاہ بند ہونے کی صورت میں عالمی معیشت شدید بحران شکار ہو جائے گی، آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل بردار گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی تیل کی ترسیل کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ گزرتا ہے ، اس پرایران کے کنٹرول سے تیل کی عالمی منڈی میں ہلچل پیدا ہو چکی ا سکی مکمل بندش سے توانائی کا عالمی بحران جنم لے سکتا ہے۔

دوسری جانب باب المندب جو نہر سویز تک رسائی کا اہم راستہ ہے ، ایشیا و یورپ کے درمیان تجارت کی شہ رگ سمجھا جاتا ہے، اس گزرگاہ کی بندش کی صورت میں جہازوں کو افریقہ کے گرد طویل راستہ اختیار کرنا پڑے گا، جس سے نہ صرف وقت بلکہ اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔ان دونوں راستوں کی بیک وقت بندش عالمی سپلائی چین کو مفلوج کر سکتی ہے ، اشیائے ضروریہ، تیل، گیس اور دیگر سامان کی ترسیل میں تاخیر کے باعث دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافہ متوقع ہے ، جبکہ کئی ممالک کو صنعتی پیداوار میں کمی اور اقتصادی سست روی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ،پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک کے لئے یہ صورتحال مزید تشویشناک ہو سکتی ہے۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے سے درآمدی بل بڑھے گا، جس کے نتیجے میں مہنگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ میں اضافہ ہوگا،عالمی سطح پر ممکنہ بحران کے پیش نظر بڑی طاقتوں کی جانب سے بحری راستوں کے تحفظ اور کشیدگی کم کرنے کے لئے سفارتی کوششوں میں تیزی آنے کا امکان ہے ، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو یہ بحران عالمی کساد بازاری کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے ۔اگر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران توانائی کی تنصیبات پرحملہ اور امریکی فوجی حملے کی صورت میں ایران کے اتحادی یمنی حوثیوں کی جانب سے باب المندب کو بند کرنے کی دھمکی دی گئی ہے جبکہ ایران کی جانب سے بھی آبنائے ہرمزکی مکمل کرنے کی بھی دھمکی دی گئی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں