گندم نجی سیکٹر خریدے گا، حکومت کا براہ راست کردار ختم، امدادی قیمت 3500 روپے من

 گندم نجی سیکٹر خریدے گا، حکومت کا براہ راست کردار ختم، امدادی قیمت 3500 روپے من

آئی ایم ایف شرط پرمعاملہ طے ہوا،15کمپنیوں کی بڈز جمع ، قائمہ کمیٹی کی چھوٹے کسانوں کو خریداری اجازت دینے کی سفارش آلوکنٹینرز چین سے وسطی ایشیائی ریاستوں کو چلے گئے تو نئی تجارتی راہداری کھل جائیگی،قائمہ کمیٹی قومی غذائی تحفظ کوبریفنگ

اسلام آباد (اسلم لُڑکا،ذیشان یوسفزئی)حکومت اس مرتبہ کسانوں سے گندم کی خریداری براہِ راست نہیں کرے گی ۔ پرائیویٹ سیکٹر ہی کسانوں سے گندم خریدے گا۔ یہ معاملہ آئی ایم ایف کی شرط پر طے ہوا ہے کہ وفاقی حکومت براہِ راست خریداری میں شامل نہیں ہوگی،قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے اجلاس میں گندم کی خریداری، امدادی قیمت، آلو اور چھالیہ کی درآمدات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس چیئرمین سید حسین طارق کی زیرصدارت ہوا ۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے کے مطابق حکومت خود گندم خریداری نہیں کرے گی بلکہ پرائیویٹ سیکٹر ہی گندم خریدے گا جبکہ وفاق نے امدادی قیمت 3500 روپے فی من مقرر کی ہے ۔ پنجاب حکومت نے پہلے 25 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی اجازت دی تھی، اب 30 لاکھ میٹرک ٹن پروکیورمنٹ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور 15 کمپنیوں نے فنانشل بڈز جمع کروا دئیے ہیں۔

سندھ حکومت نجی شعبے سے پروکیور نہیں کرے گی اور اپنی محکمہ فوڈ کے ذریعے خریداری کرے گی۔کمیٹی نے چھوٹے کسانوں کو بھی پانچ سے دس ہزار من گندم پروکیور کرنے کی اجازت دینے پر زور دیا تاکہ بڑے کاروباری گروپس کو ہی فائدہ نہ پہنچے ۔ وزارت قومی غذائی تحفظ کے حکام نے بتایاکہ چین سے وسطی ایشیائی ریاستوں کو آلو برآمد کر رہے ہیں۔خنجراب کے راستے عید سے قبل 21 کنٹینرز بھجوائے گئے ۔چینی حکام نے ان سیل بند کنٹینرز کو روک رکھا ہے۔ چین اپنے ملک سے آلو کی برآمد کی اجازت نہیں دیتا۔ حکام نے بتایاکہ آلو کے ان سیل بند کنٹینرز سے کوئی بیماری چین میں پھیلنے کا خدشہ نہیں ہے۔ اس معاملے پر وزارت خارجہ کے ذریعے چین سے بات چیت ہوئی ہے ۔کمیٹی کو حکام نے بتایاکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی چین کی حکومت سے معاملہ حل کرنے کا کہا ہے ۔چینی حکام نے ابھی تک کنٹینرز کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

اگر یہ کنٹینرز چین سے وسطی ایشیائی ریاستوں کو چلے گئے تو ایک نیا تجارتی راہداری کھل جائے گا۔چھالیہ کی درآمد میں ایپناٹوکسن کی حد 30 سے کم کر کے 15 فیصد کی گئی ۔ تقریباً 600 کنٹینرز پھنسے ہوئے ہیں، 18 ریلیز کیے گئے اور شپنگ و پورٹس کے چارجز میں اضافے کی وجہ سے مارکیٹ میں قیمتیں بڑھ گئیں۔ کمیٹی نے کہا کہ معیار اور ٹیسٹنگ لیبز کی کمی کے باعث 95 فیصد اشیا غیر معیاری ہیں جس کی تحقیقات لازمی ہیں۔کمیٹی نے وزارت فوڈ اور کسٹمز حکام کو ہدایت کی کہ تمام کنٹینرز کی فوری رہائی، معیار کی نگرانی اور چھوٹے کسانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے ۔علاوہ ازیں وزارت غذائی تحفظ کے اعلیٰ عہدیدار کے مطابق جو بھی تیسرا فریق گندم خریدے گا وہ حکومت کے کہنے پر ہی گندم ریلیز کرے گا، وہ اس بات کا پابند ہوگا کہ جہاں اور جب حکومت اس کو کہے گی ریلیز کرے گا، خود سے وہ مجاز نہیں ہوگا کہ گندم ریلیز کرے ۔ حکومت گندم کی سٹوریج اور اس کے کوریج کے پیسے ادا کرے گی، باقی حکومت گندم کی خریداری میں کوئی پیسے نہیں دے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں