امریکا،اسرائیل کے2ایٹمی مراکز ،سٹیل پلانٹس پر حملے،ایران کی بھر پور جوابی کارروائی :ہرمز سے 3جہاز واپس فرانس بھی جنگ سے لاتعلق

امریکا،اسرائیل کے2ایٹمی  مراکز ،سٹیل  پلانٹس  پر  حملے،ایران  کی  بھر  پور  جوابی  کارروائی :ہرمز  سے 3جہاز  واپس  فرانس  بھی  جنگ  سے  لاتعلق

اراک کے ہیوی واٹر ،یزد میں یورینیم پروسیسنگ پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا،میزائل فیکٹری تباہ کرنیکا دعویٰ،قم ،یامچی پرحملوں میں مزید 22 شہید، تعداد 1900سے بڑھ گئی ایران کا سعودیہ میں الخرج بیس پر امریکی ایندھن فراہم کرنیوالے بیڑے کو تباہ کرنیکا دعویٰ،اسرائیل میں 1 ہلاک ،261زخمی،کویتی بندرگاہوں،امارات پر بھی میزائل داغے


تہران(نیوز ایجنسیاں)امریکا اور اسرائیل نے ایران کے 2ایٹمی مراکز اور سٹیل پلانٹس کو اپنے حملوں میں نشانہ بنایا ہے جبکہ ایران نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اور خلیجی ممالک کے اڈوں پر میزائل داغے ، پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز سے تین جہازوں کو واپس بھیج دیا اور کہا ہے کہ آبنائے ہرمز بند ہے اور اس سے گزرنے کی کسی بھی کوشش کا سختی سے جواب دیا جائے گا۔اسرائیل کے اتحادیوں اور حامیوں کی بندرگاہوں سے آنے والے یا ان کی جانب جانے والے کسی بھی بحری جہاز کے راہداری سے گزرنے پر پابندی ہے ۔ادھر جرمنی کے بعد فرانس بھی ایران جنگ سے لا تعلق ہوگیا، فرانسیسی وزیر دفاع کیتھرین واٹرین نے کہا ہے کہ فرانس کا مو قف بہت واضح ہے ،ایران جنگ ہماری جنگ نہیں ہے ،مشرق وسطیٰ کے تنازع کا حل سفارتکاری میں ہے ۔خیال رہے امریکی صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز جرمنی کے بیان پر کہا تھا کہ اگر ایران جنگ جرمنی کی جنگ نہیں تو پھر یوکرین جنگ بھی امریکا کی جنگ نہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ ایران کی ذمے داری ہے کہ وہ اُنہیں جنگ بند کرنے پر قائل کرے ۔ انہوں نے کہا کہ اُنہیں فکر نہیں ہے کہ ڈیل ہوتی ہے یا نہیں۔ سی این این کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام کو مذاکرات کے حوالے سے امریکا کی نیت پر شک ہے ۔

دوسری جانب جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈے فیہول نے جرمن ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے امریکا اور ایران کے نمائندے پاکستان میں بات چیت کیلئے ملاقات کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے مابین ‘بالواسطہ’ رابطے ہوئے ہیں اور براہ راست ملاقات کی تیاریاں کی جا چکی ہیں۔اُن کے بقول یہ ملاقات پاکستان میں بہت جلد ہو گی۔ادھر اسرائیل کے ایران پر حملے گزشتہ روز بھی جاری رہے ، اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز مرکزی ایران میں 2 ایٹمی مقامات ،اراک میں ہیوی واٹر ری ایکٹر پلانٹ اور یزد میں یورینیم پروسیسنگ پلانٹ کو نشانہ بنایا، ہیوی واٹر پلانٹ کو ایٹمی ہتھیاروں کیلئے پلاٹونیم کی پیداوار کا اہم مقام قرار دیاگیا ہے ، ایرانی میڈیا نے پہلے اطلاع دی تھی کہ خونداب ہیوی واٹر کمپلیکس متاثر ہواہے ، تاہم کوئی جانی نقصان یا تابکاری کے اخراج کی اطلاع نہیں ملی۔خونداب کے مضافات میں ری ایکٹر پر کام 2000 کی دہائی میں شروع ہوا تھا، لیکن 2015 کے ایٹمی معاہدے کے تحت روک دیا گیا، جو بعد میں ختم ہو گیا۔ اراک کا ہیوی واٹر پلانٹ پچھلے سال جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے دوران بھی اسرائیلی حملوں کا نشانہ بن چکا ہے ، جس میں امریکا نے بھی بمباری کی تھی۔ امریکی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا یہ حملے امریکی صدر کی جانب سے دی گئی سفارتی مہلت کے بھی منافی ہیں اور اس سے خطے میں جاری کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے ۔

امریکا کے اعلیٰ سفارتکار نے جی سیون وزرائے خارجہ ملاقات سے نکل کر کہا واشنگٹن کی توقع ہے کہ اس کی فوجی کارروائی چند ہفتوں میں کامیاب ثابت ہوگی،خلیج اور لبنان میں جاری جنگ کے درمیان مارکیٹیں گر گئیں اور تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں، ۔امریکی وزیر خارجہ مارکوروبیو نے کہا چند ہفتوں میں جب ہم ان کے خلاف کارروائی مکمل کر لیں گے ، تو وہ حالیہ تاریخ میں اپنی سب سے کمزور حالت میں ہوں گے ۔روبیو نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنے جی سیون ساتھیوں کی حمایت حاصل کر لی ہے تاکہ ایران کے ہرمز کی تنگی پر جہازوں سے ٹول وصول کرنے کے غیر قانونی اقدامات کی مخالفت کی جا سکے ۔ادھر گزشتہ صبح قم شہر کے علاقے پاردیسن پر ہونے والے حملے میں 18 افراد شہید ہوگئے ،ان حملوں میں 10 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔جبکہ اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فضائیہ نے وسطی ایران کے شہر یزد میں ایران کی میزائل اور سمندری بارودی سرنگیں بنانے کی فیکٹری کو تباہ کیا ہے جہاں ایرانی بحریہ اپنے بیشتر میزائل اور سمندری بارودی سرنگیں تیار کرتی ہے ۔امریکا اور اسرائیل کے فضائی حملوں میں ایران کے دو سٹیل کارخانوں کو بھی نشانہ بنایا گیاہے ، حملوں میں خوزستان سٹیل (جنوب مغربی ایران) اور اصفہان میں واقع مبارکہ سٹیل فیکٹری کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔اسرائیلی فوج نے وسطی ایران کے صوبہ مرکزی کے دارالحکومت اراک کے کچھ حصوں سے بھی لوگوں کو فوری طور پر انخلا کی وارننگ جاری کی ہے ۔

ایران کے آذربائیجانِ مشرقی صوبے کے شہر یامچی میں ایک رہائشی علاقے پر امریکا اور اسرائیل کے حملے میں 4 افراد شہید ہو گئے ہیں، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ ایرانی ریڈ کریسنٹ کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حملوں کے آغاز سے اب تک ایران میں 1900سے زائد افراد شہید اور کم از کم 20ہزار زخمی ہو چکے ہیں۔جبکہ حملوں کے نتیجے میں ملک بھر میں 92 ہزار سے زائد شہری عمارتی یونٹس کو نقصان پہنچا ہے ۔دوسری جانب ایران نے اسرائیل اور دیگر ممالک میں فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، تل ابیب میں واقع حساس اور سٹراٹیجک مقامات کو خودکش ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنا یاگیا ،اسرائیل کی ایمرجنسی سروس کا کہنا ہے کہ شمالی اسرائیل کے علاقہ نہریہ میں ایک میزائل حملے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا جبکہ 25افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے ۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حملوں میں 261 افراد زخمی ہوئے اسرائیلی وزارتِ صحت کے مطابق ایران کے میزائل حملوں کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 5492 افراد زخمی ہو چکے ہیں، جن میں سے 116 اب بھی زیرِ علاج ہیں۔اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹزنے کہا ہے ایران کی مسلسل میزائل فائرنگ کے جواب میں اسرائیل اپنے حملے مزید بڑھائے گا۔ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے خطے کے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایسے علاقوں سے نکل جائیں جہاں امریکی افواج تعینات ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ امریکا اور اسرائیل ‘شہری مقامات اور معصوم لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔جبکہ ایرانی وزیرخارجہ نے کہا ہے خلیجی ممالک کے ہوٹلز امریکی فوجی اہلکاروں کو رہائش دینے سے گریز کریں۔سعودی عرب کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز دارالحکومت ریاض کی جانب چھ بیلسٹک میزائل داغے گئے تھے جن میں سے دو بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا گیا ہے جبکہ چار دیگر خلیج عرب اور غیر آباد علاقوں میں گرے ہیں۔

تاہم ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کے الخرج بیس میں موجود امریکی ایندھن فراہم کرنے والے جہازوں کی ایک بڑی تعداد اور لاجسٹک سپورٹ بیڑے کو تباہ کردیا گیا ہے ۔کویت کی بندرگاہوں پر بھی ڈرون اور میزائلوں سے حملے کئے گئے ،کویتی حکام کے مطابق شوائیخ میں اس کی مرکزی تجارتی بندرگاہ پر حملہ کیا گیا جس کے بعد پورٹ پر ایمرجنسی نافذ کردی گئی ،جبکہ مبارک الکبیر بندرگاہ کو بھی ڈرونز اور کروز میزائلوں نے دہرے حملے کا نشانہ بنایا ہے ۔متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ اس کے دفاعی نظام نے ایران سے فائر کیے گئے مزید 6 بیلسٹک میزائل اور 9 ڈرون کامیابی سے مار گرائے ہیں۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر وولکر ترک نے جنوبی ایران میں مناب میں لڑکیوں کے سکول پر ہونے والے حملے کی ‘جلد سے جلد’ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ایرانی حکام کے مطابق مناب میں سکول پر حملے میں 168 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں زیادہ تر بچے تھے ۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں تنازعات میں بچوں کے تحفظ کے بارے میں ہونے والی بحث کے دوران ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ویڈیو لنک پر اپنے خطاب میں مناب میں لڑکیوں کے سکول پر حملے کو ‘جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف جرم’ اور اسے ایک ‘نپا تلا، مرحلہ وار حملہ’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے پاس ہدف پر نشانہ لگانے کی بہترین فوجی ٹیکنالوجی ہے ۔ کوئی بھی یقین نہیں کر سکتا کہ اس سکول پر حملہ جان بوجھ کر نہیں کیا گیا تھا۔انھوں نے تمام ممالک کی جانب سے اس حملے کی ‘بھرپور مذمت’ اور ‘مجرموں کے احتساب’ کا مطالبہ کیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں