جنگ میں طوالت سے امریکا کی کامیابی کے امکانات معدوم
امریکا جنگ نہیں چاہتا،دباؤ بڑھا کر ایران کو مذاکرات پر لانا چاہتا ہے
(تجزیہ:سلمان غنی)
صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے مزید دس روز تک روکنے کا اعلان ایک طرف ایران کو دباؤ میں رکھنے اور دوسرا آئندہ کی حکمت عملی کے حوالہ سے اہم ہے ، ویسے بھی صدر ٹرمپ ایران کے خلاف اپنے جنگی اقدامات کی کامیابی کے اعلانات کرتے ہوئے یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ ہم اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب رہے ہیں اور اگروہ اپنے بنیادی مقاصد کے حصول میں کامیاب رہے تو پھر اب جنگ کی طوالت اور مزید جنگی تیاریوں کا کیا جواز ہے ، ظاہر یہی کیا جا رہا ہے کہ ایران پسپائی پر تیار نہیں لیکن عملاً اگر جنگی صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو فریقین کے تمام تر دعوؤں اور اعلانات کے ساتھ حقیقت یہی ہے کہ دونوں مزید تباہی و بربادی سے بچنا چاہتے ہیں۔
لیکن اپنی جنگی حکمت عملی کے تحت ایسا طرز عمل اختیار کرنے سے گریزاں ہیں کہ جس کے نتیجہ میں خود ان کے عوام اور افواج میں مایوسی پیدا ہو لہٰذا اس امر کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ صدر ٹرمپ ایرانی تنصیبات پر حملوں کے عمل کو موخر کیوں کر رہے ہیں اور ایران پسپائی پر آمادگی کیوں ظاہر کرتا نظر نہیں آ رہا اور یہ کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگی صورتحال کے خاتمہ کے لئے جاری پس پردہ کوشش کارگر ہو پائیں گی اور پاکستان کا ثالثی کا بالواسطہ کردار نتیجہ خیز ہوگا صدر ٹرمپ کی جانب سے حملوں کی ڈیڈ لائن میں توسیع اگرچہ سفارتی راستے کھلے رکھنے کا اشارہ دیتی ہے لیکن امریکی حکام کی جانب سے ایران پر دباؤ جاری رکھنے کے لئے دھمکیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے اور پینٹاگون مشرق وسطیٰ میں دس ہزار امریکی فوجی تعینات کرنے پر بھی غور کر رہا ہے تاکہ حملوں کی صورت میں مزید آپشنز بھی موجود ہوں صدر ٹرمپ کی جانب سے حملوں میں توسیع کے عمل بارے کہا گیا ہے۔
کہ اس کی وجہ ایران کی جانب سے درخواست ہے اور ان کا یہ دعویٰ ہے کہ دوطرفہ مذاکراتی عمل کامیابی سے چل رہا ہے ،جہاں تک مذاکراتی عمل کا سوال ہے تو فریقین کے درمیان مذاکرات براہ راست نہیں ہو رہے امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں بالواسطہ پیغامات کا تبادلہ دیکھنے میں آ رہا ہے امریکی صدر کی جانب سے حملوں میں توسیع کے اعلان سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا فوری طور پر جنگ نہیں چاہتا بلکہ دباؤ بڑھا کر ایران کو مذاکرات پر لانا چاہتا ہے یعنی ‘‘حملہ روکنا’’ دراصل ایک سفارتی وقفہ ہے نہ کہ مکمل پسپائی ایسے وقفے اس لئے دیئے جاتے ہیں کہ پس پردہ جاری مذاکراتی عمل بغیر تعطل کے جاری رہیں ،پاکستان کی ثالثی کا عمل اگر نتیجہ خیز نہیں بھی ہوتا تو جنگی صورتحال اور تباہی و بربادی کے عمل کو روکنے میں پاکستان کا کردار اہم بنا ہے ،خود ایک بھارتی تجزیہ کار نے اس صورتحال کو بھارت کے لئے دھچکے سے تعبیر کرتے ہوئے کہا پاکستان امن کا سفیر بن کر ابھرا ہے ۔