خاتون کوبلیک میل کرنے پر 3سال قید ،10لاکھ معاوضہ دینے کابھی حکم
کراچی (سٹاف رپورٹر)جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی گلزیر میمن نے سوشل میڈیا کے ذریعے خاتون کی نازیبا ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرنے اور بلیک میلنگ کے مقدمے میں ملزم عماد کو جرم ثابت ہونے پر مجموعی طور پر تین سال قید اور جرمانے کی سزا سنا دی۔
عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ استغاثہ نے ٹھوس شواہد، فرانزک رپورٹ اور گواہوں کے بیانات کی بنیاد پر ملزم کے خلاف الزامات کو شک سے بالاتر ہوکر ثابت کیا، استغاثہ کے مطابق متاثرہ خاتون نے ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل میں درخواست دی تھی کہ ملزم نے اس کی نازیبا تصاویر اور ویڈیوز حاصل کرکے نہ صرف اسے بلیک میل کیا بلکہ انہیں اس کے اہل خانہ اور واٹس ایپ گروپس میں بھی شیئر کیا، جس سے اسے شدید ذہنی اذیت اور بدنامی کا سامنا کرنا پڑا۔ عدالت کے روبرو تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم کے زیر استعمال موبائل فونز سے حاصل ہونے والے ڈیٹا اور فرانزک تجزیے میں قابل اعتراض مواد کی موجودگی ثابت ہوئی، جبکہ مختلف نمبرز سے ویڈیوز اور تصاویر کی ترسیل کے شواہد بھی سامنے آئے ۔ملزم کے وکیل نے دلائل دیے کہ کیس میں تضادات موجود ہیں اور فرانزک رپورٹ قابل اعتبار نہیں، تاہم عدالت نے یہ مؤقف مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ تفتیشی شواہد اور گواہیوں میں کوئی بڑا تضاد موجود نہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ملزم نے تعلقات کے خاتمے کے بعد انتقامی کارروائی کے طور پر خاتون کی نجی زندگی کو نشانہ بنایا، جو نہ صرف اس کی عزت نفس بلکہ خاندان کے لیے بھی شدید نقصان کا باعث بنا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایسے جرائم معاشرتی برائی کی عکاسی کرتے ہیں اور ان کی روک تھام کے لیے سخت سزائیں ضروری ہیں۔ فیصلے کے مطابق ملزم کو متعلقہ دفعات کے تحت تین، تین سال قید اور 45 ہزار روپے جرمانہ کی سزائیں سنائی گئیں جبکہ دس لاکھ روپے بطور معاوضہ متاثرہ خاتون کو ادا کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔