ایک اور یونیورسٹی پر اسرائیلی حملہ، ایران کا دبئی میں 500 امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، تیسرا امریکی بیڑا مشرق وسطیٰ روانہ، یمنی حوثی بھی جنگ میں شامل : کشیدگی میں کمی کیلئے وزیراعظم کا ایرانی صدر کو فون
کشیدگی کے خاتمے کی موثر راہ نکلے گی،شہبازشریف، سفارتی رابطوں پر اعتماد میں لیا،خطے کے ممالک سلامتی چاہتے ہیں تواپنی سرزمین دشمنوں کو نہ دیں:ایرانی صدر،نیٹو نے مدد نہ کرکے بڑی غلطی کی:ٹرمپ ایرانی بحریہ کی اہم تنصیب،آبی ذخیرے پر حملے ، زنجان میں 5شہید ، کویت میں 6 امریکی بحری جہاز تباہ کرنیکا دعویٰ،ایئرپورٹ نشانہ،سعودیہ میں 12امریکی فوجی،ابوظہبی میں 5بھارتی زخمی،اسرائیل میں 1ہلاک
اسلام آباد(دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کو فون کر کے خطے میں جاری کشیدگی اور امن کی کوششوں پر ایک گھنٹہ سے زائد گفتگو کی اور پاکستان کے امریکا، برادر خلیجی اور اسلامی ممالک کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں پر اعتماد میں لیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ کشیدگی کے خاتمے کی کوئی موثر راہ نکلے گی ۔جبکہ ایرانی صدر نے مذاکرات اور ثالثی کے لیے اعتماد سازی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا ہے۔
دوران گفتگو وزیراعظم نے ایران پر اسرائیل کے مسلسل حملوں، بالخصوص شہری تنصیبات پر ہونے والے تازہ حملوں کی شدید مذمت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے ان مشکل حالات میں ایرانی عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے 1900 سے زائد قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کے لیے دعا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔وزیراعظم نے ایرانی صدر کو اپنی، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے امریکا، برادر خلیجی اور اسلامی ممالک کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں سے آگاہ کیاجن کا مقصد امن مذاکرات کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔
انہوں نے پاکستان کے امن اقدام کی بھرپور حمایت کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اجتماعی کوششوں سے کشیدگی کے خاتمے کی کوئی موثر راہ نکلے گی۔ایرانی صدر نے وزیراعظم کی مخلصانہ سفارتی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ایران کے خلاف اسرائیلی اقدامات کے حوالے سے اپنا موقف بیان کیا۔ انہوں نے مذاکرات اور ثالثی کے لیے اعتماد سازی کی ضرورت پر زور دیا اور اس ضمن میں پاکستان کے مثبت کردار کی تعریف کی۔وزیراعظم نے ایرانی صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یقین دلایا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔
تہران،واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں)اسرائیل کے ایک اور یونیورسٹی اور رہائشی عمارت پر حملے ، ایران نے دبئی میں 500امریکی فوجیوں کونشانہ بنانے کا دعویٰ کردیا جبکہ امریکا کا تیسرا بحری بیڑا مشرق وسطیٰ روانہ،یمن کے حوثی بھی جنگ میں شامل ہوگئے ۔ امریکی میڈیا کے مطابق امریکی ائیر کرافٹ کیرئر جارج ایچ ڈبلیو بش ورجینیا سے مشرق وسطیٰ کیلئے روانہ ہوا،امریکی بحری بیڑے جیرالڈ فورڈ اور ابراہم لنکن پہلے سے ہی مشرق وسطیٰ میں موجود ہیں۔تہران پر گزشتہ روز بھی حملے ہوتے رہے جس پر دارالحکومت کے فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا ، 97 سال پرانی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی کو بھی نشانہ بنایا گیا ۔ایران میں ایک بڑی آبی تنصیب کو بھی امریکی اور اسرائیلی حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے ،ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق مغربی ایران کے شہر ہفتکل میں 10000 مکعب میٹر کے پانی کے ذخیرے کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی دفاعی افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران میں ایرانی حکومت کی میرین انڈسٹریز آرگنائزیشن کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا ہے ۔ان کے مطابق یہ ہیڈکوارٹر بحری ہتھیاروں کی وسیع رینج کی تحقیق، ترقی اور پیداوار کا مرکز کا کردار ادا کر رہا تھا۔ایرانی صوبے زنجان میں رہائشی عمارت پر امریکی و اسرائیلی حملے میں 5 افراد شہید اور سات زخمی ہوگئے ۔بعدازاں ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں اسرائیل، اردن، عراق اور خلیجی ممالک کو ڈرون اور میزائل حملوں کی لہروں سے نشانہ بنایا۔پاسداران انقلاب کے مطابق وعدہ صادق چہارم نامی آپریشن کے تحت دشمن پر حملے کی 84 ویں لہر میں ایران نے اسرائیل پر کلسٹر بموں کی بارش کردی ، تل ابیب میں کثیر المنزلہ عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، میزائل اسرائیلی فضا میں داخل ہوتے ہی سائرن بج اٹھے ، لوگ شیلٹرز میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔
اسرائیل نے ایران کی جانب سے کلسٹر بموں سے حملوں میں ایک شخص کی ہلاکت اور 2 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کر دی ہے ۔ترجمان خاتم الانبیاہیڈکوارٹرز بریگیڈیئر جنرل ابراہیم ذوالفقاری کے مطابق ایران نے دبئی میں امریکی فوجیوں کے 2 مقامات کومیزائل اور خودکش ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے جہاں 500 سے زائد امریکی فوجی چُھپے ہوئے تھے ،ترجمان ایرانی فوج نے کہا دبئی میں ایک مقام پر 400 اور دوسرے مقام پر 100 سے زائد امریکی فوجی موجود تھے ،دونوں مقامات کو گائیڈڈ میزائلز اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا، ایمبولینسز کئی گھنٹے تک لاشوں اور زخمیوں کو نکالتی رہیں، ٹرمپ کو سمجھنا ہوگا یہ خطہ امریکی فوجیوں کا قبرستان بنے گا۔تاہم سینٹکام نے ایرانی دعوے کی تردید کی ہے ۔
ایرانی فوج کا کہنا تھا کہ سلالہ پورٹ کے قریب امریکی کارگو جہاز پر حملہ کیا گیا اور ساتھ ہی دبئی میں یوکرین کی اینٹی ڈرون فیکٹری پر حملہ کر کے اسے تباہ کردیا ہے ، اس گودام میں 21 یوکرینی اہلکار بھی موجود تھے لیکن ان کے متعلق اطلاع نہیں کہ آیا انھیں اس حملے میں نقصان پہنچا ہے ۔ادھر ابوظہبی میں فضائی دفاع کے ذریعے بیلسٹک میزائل کو ناکارہ بنانے کے دوران خلیفہ اکنامک زون کے قریب میزائل کا ملبہ گرنے سے پانچ بھارتی شہری زخمی ہوئے ہیں۔ملبہ گرنے سے دو مقامات پر آگ بھی لگی ۔متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس نے 20 بیلسٹک میزائلوں اور 37 ڈرونز کو مار گرایا ہے ۔ایرانی حملوں کے آغاز کے بعد سے اب تک 398 بیلسٹک میزائل، 15 کروز میزائل اور 1ہزار 872 ڈرونز کو مار گرایا گیا ہے ۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں مسلح افواج کے دو ارکان کے ساتھ ساتھ فوج میں کانٹریکٹ پر شامل ایک مراکشی شہری بھی شامل ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی فوج نے کویت کی الشویخ بندرگاہ پر امریکا کے 6 ٹیکٹیکل جہازوں کو نشانہ بنایا ہے ،3 لڑاکا جہاز سمندر میں غرق ہوگئے جبکہ دیگر 3 میں آگ لگی ہوئی ہے ۔جبکہ کویتی وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق گزشتہ روز 15 ڈرونز کا پتہ چلا اور ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔حملوں کے نتیجے میں ایئرپورٹ پر لگنے والی آگ کو بجھا دیا گیاہے ۔ امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں گزشتہ روز پرنس سلطان ائیربیس پر ہونے والے میزائل حملے میں 12 امریکی فوجی زخمی ہوئے جن میں سے 2 کی حالت تشویشناک ہے ۔امریکی میڈیا کے مطابق امریکا کے کئی ری فیولنگ طیاروں کو نقصان پہنچا ہے ۔دوسری جانب سعودی عرب کی وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ ریاض ریجن کی طرف داغے گے ایک بیلسٹک میزائل کو راستے میں ہی نشانہ بنایا گیا اور اسے ہدف پر پہنچنے سے پہلے تباہ کر دیا گیا۔ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے عمان کی بندرگاہ کے قریب امریکی کشتی کو نشانہ بنایا ہے ۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک تسنیم نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایک امریکی لاجسٹک کشتی کو سلالہ کی بندرگاہ سے ‘کافی فاصلے ’ پر نشانہ بنایا گیا ہے ۔
قطر کے وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ایران نے قطری سرزمین پر متعدد ڈرون بھیجے ، جنہیں تباہ کردیا گیا ہے ۔ادھر دوسری جانب یمن کے حوثی گروپ کا کہنا ہے انہوں نے اسرائیل پربیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیاہے ، ہدف مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی علاقوں میں اسرائیلی فوجی تنصیبات تھیں۔گروپ نے مزید کہا کہ انھوں نے امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار اسرائیل پر حملہ کیا ہے ۔اس کے آپریشنز تب تک جاری رہیں گے جب تک تمام محاذوں پر ‘جارحیت’ ختم نہیں ہو جاتی۔اسرائیلی فوج نے کہا کہ خطرے کو روکنے کے لیے فضائی دفاعی نظام کو فعال کیا گیا اور نیگیو خطے میں بیر شیبہ شہر اور آس پاس کی کمیونٹیز میں سائرن بجائے گئے ۔ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں حوثیوں کی مداخلت سے بحیرہ احمر کے قریب تنازع کے پھیلنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
چتھم ہاؤس کے ریسرچ فیلو فاریہ المسلمی کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی تنازع میں شمولیت ‘بڑی اہمیت’ کی حامل ہے کیونکہ وہ ایک اور اہم بین الاقوامی تجارتی بحیرہ احمر پر بیٹھے ہیں۔اگر حوثیوں نے بحیرہ احمر میں بھی ناکہ بندی کی تو یہ ایک ڈراؤنا خواب ہو گا۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ خطے کے ممالک ترقی و سلامتی چاہتے ہیں تو اپنی سرزمین ایران کے دشمنوں کیلئے استعمال نہ ہونے دیں۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ بارہاکہہ چکے ہیں ایران حملوں میں پہل نہیں کرتا، لیکن اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے یا اقتصادی مراکز کو نشانہ بنایا گیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاہے کہ ایران ڈیل چاہتا ہے ، ہم مذاکرات کر رہے ہیں اور اس کا کوئی نتیجہ بھی نکلے گا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو آبنائے ہرمز کھولنی پڑے گی، ایران اب کبھی بحری جنگی جہاز نہیں بنا سکے گا، ہم ایرانی رجیم کے خطرے کو ختم کر رہے ہیں، ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا تو وہ اسرائیل کے خلاف استعمال کر سکتا تھا۔ میامی میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہاکہ انہیں سٹریٹ آف ٹرمپ کو کھولنا پڑے گا، میرا مطلب ہرمز ہے ۔ معاف کیجئے ، مجھے واقعی افسوس ہے ۔فیک نیوز کہے گا میں نے حادثاتی طور پر ایسا کہہ دیا ۔ میڈیا پر اب اس پر تبصرے ہوں گے ۔ٹرمپ نے کہا کہ ہمیشہ کہاہے کہ نیٹو کاغذی شیر ہے ،ہمیشہ نیٹو کی مدد کی لیکن انہوں نے کبھی ہماری مدد نہیں کی،نیٹو نے ہماری مدد نہ کرکے بڑی غلطی کی ہے ۔نیٹو کے برعکس سعودی عرب، قطر، یواے ای، بحرین، کویت نے مدد کی اور لڑے ۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران میں امریکی فوجی اتارنے کے تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ جنگ مہینوں نہیں بلکہ چند ہفتوں تک جاری رہے گی۔