سیٹلائٹ تصاویر کے بعد طالبان کے سرحدی کنٹرول پر شدید تنقید
بی بی سی سے منسوب سیٹلائٹ تصاویر میں پاک افغان باڑ حدود تک دکھائی گئی سابق رکن ولسی جرگہ نے طالبان کو ملکی سرحدوں کے تحفظ میں ناکام قرار دیدیا
اسلام آباد(دنیا رپورٹ)افغان طالبان کا سرحدی کنٹرول شدید تنقیدکا شکار ہوگیا، بین الاقوامی میڈیا کی جانب سے نئی سیٹلائٹ تصاویر کے اجرا کے بعد افغان طالبان کی قومی سرحدوں کے تحفظ کی صلاحیت پر اندرونِ ملک تنقید میں اضافہ ہو گیا ہے۔ سابق رکن ولسی جرگہ، مریم سلیمانخیل نے طالبان حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ میں ناکام رہی ہے ۔یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب سیٹلائٹ تصاویر، جن کی تصدیق بی بی سی کی رپورٹس سے بھی ہوتی ہے ، میں پاک افغان سرحد کے ساتھ باڑ اور خاردار تار کو افغان حدود کے اندر تک پھیلا ہوا دکھایا گیا۔
یہ صورتحال افغان طالبان انتظامیہ کے ان دعوؤں کی نفی کرتی ہے جن کے تحت وہ خود کو سرزمین کے محافظ قرار دیتے رہے ہیں۔ گزشتہ کئی مہینوں سے طالبان انتظامیہ یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ انہوں نے دہائیوں بعد پہلی بار ملک کے ہر انچ پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے ، تاہم سلیمانخیل کے بیانات اس دعوے کی تردید کرتے ہیں۔دوسری جانب پاکستان کی جانب سے سرحدی باڑ لگانے کو سکیورٹی خلا کو پُر کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جسے افغان طالبان پُر کرنے میں ناکام رہے ۔ اس اقدام کے ذریعے پاکستان اپنی سرزمین کو افغانستان سے آنے والے دہشت گردی کے ممکنہ خطرات سے محفوظ بنانے کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔