سولر پینلز 15فیصد تک مہنگے ، صارفین میں تشویش

سولر پینلز 15فیصد تک مہنگے ، صارفین میں تشویش

فریٹ چارجز میں اضافہ ،چین کاایکسپورٹ ریبیٹ ختم کرنا بڑی وجوہات صورتحال برقرار رہی تو سولر سسٹمز کی مجموعی لاگت مزید بڑھ سکتی،ماہرین

لاہور( این این آئی)حالیہ دنوں میں سولر پینلز کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے سے صارفین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی،عالمی اور مقامی سطح پر فریٹ چارجز میں غیر معمولی اضافے اورچین کی جانب سے یکم اپریل 2026 سے سولر مصنوعات پر دئیے جانے والے 9 فیصد وی اے ٹی ایکسپورٹ ریبیٹ کے خاتمے کو قیمتیں بڑھنے کی بڑی وجوہات قرار دیا جارہا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ مجموعی طور پر مارکیٹ میں کم از کم 10 سے 15 فیصد اضافہ دیکھا جا چکا ہے جو ایک تشویشناک رجحان ہے ۔انہوں نے کہا کہ عالمی اور مقامی سطح پر فریٹ چارجز میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ، جس میں شپنگ، لاجسٹکس اور ہینڈلنگ کے اخراجات شامل ہیں،اس کے علاوہ درآمدی لاگت میں اضافہ، کرنسی کے اتار چڑھا ؤاور سپلائی چین میں عدم استحکام نے بھی قیمتوں کو اوپر دھکیلنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ مزید کہاکہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے مہینوں میں سولر سسٹمز کی مجموعی لاگت مزید بڑھ سکتی ہے جس کا براہِ راست اثر صارفین اور انسٹالیشن مارکیٹ پر پڑے گا۔انہوں نے بتایا کہ پہلے 3 کلو واٹ کے سولر پینلز کا پورا خرچہ صرف ڈیڑھ لاکھ روپے تھا جبکہ 5 کلو واٹ والا اڑھائی لاکھ روپے میں مل جاتا تھا۔ اگر آپ آج 3 کلو واٹ کا اچھا سولر سسٹم لگانا چاہیں تو اس کا کل خرچہ تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار سے 5 لاکھ 50 ہزار روپے تک پڑ سکتا ہے ۔اسی طرح 5 کلو واٹ کا سسٹم لگوانے میں 6 لاکھ سے 8 لاکھ 50 ہزار روپے تک لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر مہنگائی اور فیول کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوتا رہا تو اگلے چند مہینوں میں یہ قیمتیں اور بھی زیادہ بڑھ سکتی ہیں۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں