طالبان رجیم کی نااہلی، معیشت کے بعد نظامِ صحت بھی مفلوج

 طالبان رجیم کی نااہلی، معیشت  کے بعد نظامِ صحت بھی مفلوج

اسلام آباد(خصوصی نیوز رپورٹر)طالبان رجیم کی نااہلی کے نتیجے میں افغانستان کی معیشت کے بعدسماجی ڈھانچہ بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا۔افغان طالبان رجیم کی تمام ترتوجہ دہشتگردوں کی پشت پناہی اورخطے میں عدم استحکام پھیلانے پرمرکوز ہے جبکہ صحت کا نظام مفلوج ہوچکا ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کی زندگیاں داؤ پر لگ چکی ہیں۔

افغان میڈیا ادارے کابل ٹربیون کے مطابق صوبہ بدخشاں میں طبی عملہ گزشتہ کئی ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف ہڑتال پر ہے ، جس کے باعث سرکاری ہسپتالوں اور طبی مراکز میں خدمات شدید متاثر ہو چکی ہیں۔رپورٹ کے مطابق ادویات اور دیگر ضروری طبی سامان کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے ۔ کابل ٹربیون کے مطابق حالیہ مہینوں میں متعدد طبی ملازمین کی برطرفی اور بار بار کی انتظامی تبدیلیوں نے صحت کے نظام کو مزید کمزور کر دیا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بدخشاں میں جاری ہڑتال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ موجودہ نظام عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہو رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی تمام توجہ عوامی فلاح و بہبود کے بجائے آمرانہ ہتھکنڈوں کے ذریعے اپنا غیرقانونی تسلط مضبوط کرنے پر مرکوز ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں