IMF کا سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھنے کا مطالبہ، سوشل میڈیا پر انکم ٹیکس کی تیاری
ایندھن، خوراک کی عالمی قیمتیں بڑھنے پر سٹیٹ بینک شرح سود میں اضافہ کیلئے تیار رہے :اعلامیہ،مہنگائی میں ممکنہ اضافہ پر تشویش سوشل میڈیا پر سالانہ 50ہزار ویوز، یوٹیوب ہزار ویوز پر 195روپے آمدن تصور اور شق 99سی کے تحت انکم ٹیکس لاگو ہو گا:ایف بی آر فارن ایکسچینج نظام بتدریج نرم، پابندیاں خاتمہ کا روڈ میپ مارچ 2027تک مکمل:دستاویزات، ترسیلاتِ زر میں رکاوٹیں دور کرنیکا منصوبہ
اسلام آباد (مدثر علی رانا)آئی ایم ایف نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ سٹیٹ بینک مشرق وسطیٰ کی سنگین صورتحال میں مہنگائی بڑھنے کے خدشہ کے پیش نظر سخت ترین مانیٹری پالیسی پر کاربند رہے ، پاکستان کے ساتھ حالیہ سٹاف لیول معاہدے میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ سٹیٹ بینک افراط زر میں غیر معمولی اضافے کے خدشات پر سخت ترین مانیٹری پالیسی اپنائے رکھے گا، اگر افراط زرکی شرح بڑھتی ہے تو سٹیٹ بینک بنیادی شرح سود میں اسی تناسب سے اضافہ کرے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف سٹیٹ بینک کے فیصلوں کی مانیٹرنگ جاری رکھے گا۔ سٹیٹ بینک حکام سے حالیہ مذاکرات میں 9مارچ کی میٹنگ میں پالیسی ریٹ برقرار رکھنے کے امور پر بھی بات چیت ہوئی تھی۔ سٹیٹ بینک حکام کے مطابق خوراک اور ایندھن کی عالمی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ اور گھریلو قیمتوں اور بنیادی افراط زر کے حوالے سے قریبی نگرانی کر رہے اور ضرورت کے مطابق پالیسی ایڈجسٹ کرنے کیلئے تیار ہیں۔
سرکاری دستاویز کے مطابق دسمبر 2025 میں پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کمی کی گئی تھی تاہم مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے باعث 9 مارچ کے اجلاس میں شرح سود برقرار رکھی گئی۔ ذخائر بڑھانے کیلئے انٹربینک مارکیٹ مستحکم بنانے اور شفافیت بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔ سٹیٹ بینک نے فارن ایکسچینج نظام میں بتدریج نرمی لانے کا عندیہ بھی دیا تاکہ نجی شعبے کی ترقی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ مل سکے ، بعض پیچیدہ ضوابط ختم کیے جائیں گے اور مستقبل میں پابندیوں کے مرحلہ وار خاتمے کیلئے روڈ میپ تیار کیا جا رہا جس کی تکمیل مارچ 2027 تک متوقع ہے ۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات کو معیشت کیلئے کلیدی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ مہنگے ادائیگی نظام میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کیلئے جامع منصوبہ تیار کیا جا رہا جس پر مئی 2026 تک پیشرفت متوقع ہے ، حکومت یہ یقینی بنانے کیلئے طریقہ کار وضع کرے گی کہ ترسیلات پر سبسڈی مالی سال کے مقررہ بجٹ سے تجاوز نہ کرے ۔
مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے آغاز کے ساتھ ہی سٹیٹ بینک پاکستان، حکومت پاکستان اور آئی ایم ایف نے پالیسی فریم ورک بہتر بنانے اور مواصلات مضبوط بنانے کی کوششیں جاری رکھیں۔ آئی ایم ایف اور سٹیٹ بینک جاری کشیدگی کے باعث ایکسچینج ریٹ کے اتار چڑھاؤ کے جھٹکوں کو جذب کرنے کو بھی مانیٹر کر رہے ہیں، ترسیلات زر کو راغب کرنا پاکستان کے بیرونی استحکام کیلئے اہم ہے ، ترسیلات زر میں یا روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں مہنگے ادائیگی نظام کی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ آئی ایم ایف شرط اور بجٹ میں مختص ریونیو ہدف میں شارٹ فال حاصل کرنے کیلئے ایف بی آر سوشل میڈیا کی آمدن پر انکم ٹیکس کی وصولی کیلئے متحرک ہو چکا ہے جس کیلئے سوشل میڈیا ماہرین اور متعلقین سے ایک ہفتے کے اندر اپنی تجاویز مانگ لی ہیں۔
ایف بی آر نوٹیفکیشن کے مطابق ایک ہفتے کے بعد سوشل میڈیا سے انکم ٹیکس کی وصولی کا طریقہ کار طے کرلیا جائے گا، اس مدت سے پہلے موصول اعتراضات یا تجاویز کو زیر غور لایا جائے گا، سوشل میڈیا سے آمدنی والے افراد پر ٹیکس کیلئے خصوصی طریقہ کار شق 99 سی کے تحت لاگو کیا جائے گا، پاکستان میں دیکھے جانے والے سوشل میڈیا سے انکم ٹیکس کی وصولی کا طریقہ کار شامل کیا جا رہا ہے ، ایف بی آر کے مطابق غیر رہائشی شخص جو سوشل میڈیا سے پاکستان میں صارفین کی ویورشپ، سبسکرائب سے آمدنی حاصل کرتا ہے وہ انکم ٹیکس دے گا ۔ سوشل میڈیا پر ایک مالی سال میں 50 ہزار ویوز اور ایک سہ ماہی میں 12 ہزار 500 ویوز کاروباری تصور کرنے کی تجویز ہے اور ان پر انکم ٹیکس کا اطلاق ہو گا، یو ٹیوب پر 1000 ویوز پر آمدن 195 روپے تصور کرنے کی تجویز ہے ۔