ایران کو ایک رات میں ختم کیا جاسکتا، یہ رات آج کی بھی ہوسکتی : ٹرمپ
مہلت ختم ہونے پر ایران کے پاس پل ہونگے نہ بجلی گھر ، پتھر کے زمانے میں دھکیل دیا جائیگا:ٹرمپ کی نیوز کانفرنس ، ایران سوچ لے یہ صدر کوئی نرمی نہیں کر تا :وزیر دفاع ، فضائیہ کے اہلکار بچا کر لانے کا جشن منانے کا فیصلہ معاہدہ اسلام آباد کیلئے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے رات بھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ رابطے ، ایران کا سیز فائر کی بجائے مستقل جنگ بند کر نے پر زور
واشنگٹن (نیوز ایجنسیاں )امریکی صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ ایران کا پورا ملک ایک ہی رات میں تباہ کیا جا سکتا ہے ، اور وہ رات شاید(آج) منگل کی رات ہو۔ وہ وائٹ ہاؤس میں نیوز کانفرنس سے خطا ب کر رہے تھے ۔امریکی صدر نے کہا اگر ایران منگل کو شام 8 بجے (امریکی وقت) تک آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے معاہدہ نہیں کرتا تو اس ملک کو "جہنم" بنا دیا جائے گا۔ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدے کیلئے منگل کی آخری مہلت دوبارہ دہرائی او ر کہا کہ ایسا معاہدہ چاہیے جو میرے لیے قابلِ قبول ہو، اور اس معاہدے کا ایک اہم جز و یہ ہے کہ تیل اور دیگر اشیاء کی نقل و حرکت آزادانہ ہو۔ انہوں نے کہا ہمارے پاس ایک منصوبہ ہے ، اور ہماری فوجی طاقت کی بدولت ایران کے ہر پل کو کل رات بارہ بجے تک ملبے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے ، ہر پاور پلانٹ جل کر یا پھٹ کر ناقابلِ استعمال ہو جائے گا۔ میں کہہ رہا ہوں، مکمل تباہی بارہ بجے تک، اور اگر چاہیں تو یہ چار گھنٹوں میں ہو سکتی ہے ، لیکن ہم نہیں چاہتے کہ یہ صورتحال پیدا ہو۔
اس مو قع پر امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ ایران سمجھداری سے فیصلہ کرے ، کیونکہ یہ صدر کسی قسم کی نرمی نہیں برتتے ۔ ٹرمپ نے صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کیلئے دی گئی 10 دن کی مہلت آج ختم ہونی تھی، لیکن انہوں نے ایسٹر کے موقع پر ‘اچھا انسان بننے ’ کیلئے اسے کل تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ۔تاہم ٹرمپ نے کہا جب کل(منگل ) کی مہلت ختم ہو جائے گی تو ان کے پاس کوئی پُل نہیں ہوں گے ، ان کے پاس کوئی بجلی گھر نہیں ہوں گے ، پتھر کا زمانہ، ہاں۔ٹرمپ نے کہا ایران کے اوپر مار گرائے گئے امریکی فضائیہ کے دو اہلکاروں کے ریسکیو آپریشن کی کامیابی کا جشن منایا جائے گا۔صدر نے ریسکیو مشن کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے امریکی مسلح افواج کو یہ حکم دیا تھا کہ پھنسے ہوئے فضائیہ کے اہلکار کو واپس لانے کیلئے جو بھی ضروری ہو، کیا جائے۔
انہوں نے کہا اس مشن میں غیر معمولی خطرات مول لیے گئے ، لیکن کسی بھی ریسکیو اہلکار کو چوٹ نہیں آئی۔ٹرمپ نے بتایا کہ دوسرے امریکی فضائی اہلکار کو نکالنے کیلئے کیے گئے ریسکیو مشن میں 155 طیاروں نے حصہ لیا، جن میں4 بمبار، 64 فائٹر جیٹس، 48 ری فیولنگ ٹینکرز، 13 ریسکیو طیارے اور دیگر شامل تھے ۔انہوں نے بتایا کہ امریکی افواج کو ایران میں کچھ طیارے چھوڑنے پڑے ، لیکن ایران کو ان طیاروں کے آلات حاصل کرنے دینے کے بجائے امریکی فوج نے ان طیاروں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس میڈیا ادارے سے اس شخص کا نام طلب کریں گے جس نے ایران میں امریکی ریسکیو آپریشن سے متعلق معلومات لیک کیں، انہوں نے اس خبر دینے والے کو جیل بھیجنے کی دھمکی دی۔قبل ازیں رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کو جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کیلئے پاکستان کی جانب سے ایک منصوبہ موصول ہوا ، جس میں پہلے فوری طور پر جنگ بندی اور اس کے بعد ایک جامع معاہدہ کی تجویز تھی ۔
ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پوری شب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ رابطہ برقرار رکھا۔تجویز کے مطابق فوری طور پر جنگ بندی نافذ کی جائے گی اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی، جبکہ وسیع تر معاہدے کو حتمی شکل دینے کیلئے 15 سے 20 دن کا وقت رکھا جائے گا۔ یہ معاہدہ عارضی طور پر اسلام آباد اکارڈ کے نام سے جانا جا رہا ہے ، اور اس میں آبنائے ہرمز کیلئے علاقائی فریم ورک شامل ہوگا، جبکہ حتمی بات چیت اسلام آباد میں کی جائے گی۔ایک ذریعے نے کہا کہ ابھی تک ایران نے کوئی جواب نہیں دیا ہے ، اور مزید بتایا کہ پاکستان، چین اور امریکا کے تعاون سے تیار کی گئی عارضی جنگ بندی کی تجویز پر تہران کی طرف سے اب تک کوئی یقین دہانی موصول نہیں ہوئی ہے ۔چین کے حکام کی جانب سے تبصرے کیلئے ابھی تک کوئی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق پاکستان کے ذریعے امریکی تجویز کے جواب میں تہران نے سیز فائر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کا مستقل خاتمہ ضروری ہے ۔ایران نے جنگ ختم کرنے کیلئے امریکی تجویز پر 10 نکاتی جواب جمع کرایا تھا، جس میں مجوزہ جنگ بندی کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جنگ کا مستقل خاتمہ ضروری ہے ۔ایک پہلے کی پریس کانفرنس میں ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے دعویٰ کیا کہ جنگ بندی سے امریکا اور اسرائیل کو مختصر وقفہ مل جائے گا تاکہ وہ دوبارہ منظم ہو کر نئے جرائم کریں۔انہوں نے کہا کہ ایران امریکی مذاکرات کاروں پر اعتماد نہیں کر سکتا۔اسماعیل بقائی نے کہا کہ دشمن کو اس حد تک اپنے اقدامات پر پچھتانا چاہیے کہ وہ دوبارہ ایران کی خودمختاری کو دھمکانے کی ہمت نہ کرے۔