بیرونی ادائیگیوں کے انتظامات مکمل، اہداف کے مطابق زرمبادلہ ذخائر برقرار رکھیں گے : وزیر خزانہ
خطے میں جنگی اثرات سے معیشت متاثر ،صورتحال مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیاں بنانے کی ضرورت:دنیا نیوز سے گفتگو مالی مشکلات کے باعث جولائی سے مارچ تک صرف 41 فیصد ترقیاتی بجٹ استعمال ہو سکا: دستاویز،مزیدکٹوتی کی تجاویز
اسلام آباد(مدثرعلی رانا)وزیرخزانہ محمداورنگزیب نے دنیا نیوز سے غیررسمی گفتگو کے دوران کہا کہ یو اے ای اور یورو بانڈز کی ری پیمنٹس کیلئے انتظامات کر لیے ہیں ، آئی ایم ایف اہداف کے مطابق رواں مالی سال کے اختتام تک زرمبادلہ ذخائر مستحکم اور برقرار رکھے جائیں گے ، پلاننگ کمیشن دستاویز میں انکشاف ہوا کہ رواں مالی سال ترقیاتی منصوبوں کے اخراجات میں سست روی کا شکار رہا ، مالی مشکلات کے باعث ابھی تک ترقیاتی منصوبوں پر حقیقی بجٹ کا تقریبا ً41 فیصد خرچ ہو سکا ، جولائی سے مارچ 2026 تک ترقیاتی منصوبوں پر اخراجات 409 ارب روپے رہے ہیں جبکہ اسی دوران 588ارب 76 کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز آتھرائز کیے گئے ہیں۔
محمداورنگزیب نے گزشتہ روز نمائندہ دنیا نیوز سے گفتگو کے دوران کہا کہ خطے کی کشیدہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے، عالمی سطح پر معاشی پالیسیاں تبدیل ہو رہی ہیں ، کمٹمنٹ کے مطابق بروقت بیرونی ادائیگیاں اور زرمبادلہ ذخائر کو مستحکم اور آئی ایم ایف ہدف کے مطابق برقرار رکھا جائے گا۔ رواں مالی سال 2026-27 کیلئے پاکستان کی بروقت ادائیگیوں کیلئے جتنی کمٹمنٹس ہیں وہ پوری کی جائیں گی،وزارت خزانہ کمرشل فنانسنگ اور بانڈز جاری کرنے کی تیاریاں کررہی ہے۔ وزیرخزانہ نے گفتگو کے دوران بتایا کہ کمرشل فنانسنگ کیلئے بینکوں کے کنسورشیم سے بات چیت چل رہی ہے جبکہ اپریل کے اختتام سے پانڈا بانڈز کے اجرا کیلئے دوبارہ تیاریاں شروع کر رہے ہیں اور رواں مالی سال کے دوران ہی پانڈا بانڈز کا اجرا مکمل کیا جائے گا، حکومت کا مجموعی طور پر 1 ارب ڈالر پانڈا بانڈز کا اجرا کرنے کا پلان ہے ، ان فلو اور آؤٹ فلو پلان کے مطابق ہے، رواں مالی سال کیلئے طے شدہ فنانسنگ اہداف کمٹمنٹ کے مطابق پورے ہونگے۔
وزیرخزانہ نے کہا پاکستان پہلی مرتبہ پانڈا بانڈز کا اجرا کر رہا جس کے باعث وقت لگ رہا ہے جو پیچیدگیاں تھی ان کو دور کر لیا گیا ہے ۔ خطے میں کشیدہ صورتحال کے باعث ملکی اکانومی پر اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ پلاننگ کمیشن دستاویز کے مطابق وفاقی وزارتوں نے 294 ارب 81 کروڑ روپے کے فنڈز خرچ کیے ، نیشنل ہائی ویزاتھارٹی نے 72 ارب 98 کروڑ روپے کے فنڈز خرچ کیے ، پاور ڈویژن نے 41 ارب 30 کروڑ روپے کے فنڈز خرچ کیے ، آبی وسائل ڈویژن نے 46 ارب 98 کروڑ روپے کے فنڈز خرچ کیے ، صوبوں اورخصوصی علاقہ جات نے 115 ارب 37 کروڑ روپے خرچ کیے ، ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے 20 ارب روپے کے فنڈز خرچ کیے ، پلاننگ ڈویژن نے 10 ارب 53 کروڑ روپے خرچ کیے ۔ رواں مالی سال کے نظرثانی وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم 9 سو ارب روپے تک محدود ہے ، وفاقی حکومت نے گزشتہ ہفتے ترقیاتی بجٹ میں 100 ارب روپے کی کٹوتی کی ہے جبکہ مزید کٹوتی کی تجاویز بھی زیرغور ہیں۔ وزیرخزانہ نے بتایا حکومتی ترجیحات معیشت کو درست سمت میں گامزن رکھنے پر مرکوز ہیں ، اسی لیے آئی ایم ایف کیساتھ ملکر پالیسیوں سے معیشت کو درست سمت میں گامزن کیا، آئندہ دنوں میں اہم معاشی فیصلے اور بجٹ تیاریاں کی جائیں گی۔