پنجاب :منصوبوں کی منظوری میں تاخیر،فنڈنگ متاثر ہونیکا خدشہ
الیکٹرک وہیکل کیلئے 4 ملین ڈالر،ای ٹو ، تھری وہیلرز کیلئے 11 ملین ڈالرمختص ہیں جلد فیصلے نہ کئے گئے تو جدید ٹرانسپورٹ نظام کے اہداف بھی متاثر ہونگے :حکام
لاہور(اپنے نامہ نگارسے )پنجاب میں ماحولیاتی اور ٹرانسپورٹ سے متعلق اہم منصوبوں کی منظوری میں تاخیر کے باعث بین الاقوامی فنڈنگ متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق صوبائی کابینہ کی جانب سے ضروری پالیسی فیصلوں اور منظوریوں میں تاخیر کے سبب عالمی بینک سے متوقع تقریباً 31 ملین ڈالر کی فنڈنگ خطرے میں پڑ گئی ، جس سے نہ صرف ترقیاتی اہداف متاثر ہونے کا اندیشہ ہے بلکہ ماحولیاتی اصلاحات کا عمل بھی سست روی کا شکار ہو سکتا ہے ۔
ذرائع کے مطابق الیکٹرک وہیکل (ای وی)پالیسی تاحال منظوری کی منتظر ہے جس کی وجہ سے تقریباً 4 ملین ڈالر کی فنڈنگ متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ۔ اسی طرح ای ٹو اور تھری وہیلرز منصوبے کیلئے مختص 11 ملین ڈالر بھی تاخیر کے باعث خطرے سے دوچار ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ بینک آف پنجاب کو مالیاتی ثالث بنانے کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو)بھی تاحال زیر التواء ہے ۔ ذرائع کے مطابق الیکٹرک بسوں کیلئے فاصلے کے حساب سے کرایہ مقرر کرنے کی پالیسی بھی منظور نہ ہو سکی جس کے باعث مزید 5 ملین ڈالر کی فنڈنگ متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔ اس کے علاوہ گاڑیوں کی اخراجی بنیاد پر ریٹائرمنٹ کیلئے قانونی فریم ورک بھی تاخیر کا شکار ہونے کی وجہ سے ماحولیاتی اصلاحات کیلئے مختص 4 ملین ڈالر کی رقم خطرے میں پڑ گئی ۔
مزید برآں علاقائی و جغرافیائی صورتحال کے باعث خریداری کے عمل میں رکاوٹوں کے نتیجے میں 7 ملین ڈالر کی ادائیگی متاثر ہو سکتی ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی بینک کی جانب سے فنڈز کے حصول کیلئے مقررہ اہداف اور شرائط پر بروقت عملدرآمد ضروری ہے تاہم موجودہ تاخیر اس عمل میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے ۔ حکام کے مطابق اگر فوری طور پر پالیسی منظوریوں اور انتظامی فیصلوں کو حتمی شکل نہ دی گئی تو نہ صرف مالی وسائل کا ضیاع ہوگا بلکہ صوبے میں ماحولیاتی بہتری اور جدید ٹرانسپورٹ نظام کے قیام کے اہداف بھی متاثر ہوں گے ۔