پٹرول مہنگا، پنجاب میں ٹرانسپورٹ و مہنگائی کا بحران شدت اختیار کر گیا
کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، 38 اضلاع میں صورتحال کنٹرول سے باہر ہونے لگی صرف تین روز میں اشیائے ضروریہ 25 فیصد مہنگی :سپیشل برانچ رپورٹ،فوری اقدامات کی ضرورت:ماہرین
لاہور (محمد حسن رضا سے )پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد پنجاب بھر میں مہنگائی اور ٹرانسپورٹ کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے ، جبکہ سپیشل برانچ کی خفیہ رپورٹ نے حکومتی دعوؤں کے برعکس زمینی حقائق کو واضح کر دیا ہے ۔ رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کر دی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پٹرول مہنگا ہونے کے اثرات براہ راست عوام پر منتقل ہو رہے ہیں اور کئی علاقوں میں صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جا رہی ہے ۔رپورٹ کے مطابق صوبے کے 38 اضلاع میں کیے گئے سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ ٹرانسپورٹ کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ۔ انٹر سٹی بس کرایوں میں اوسطاً 30 فیصد جبکہ بعض شہروں، خصوصاً فیصل آباد میں 40 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مال برداری کے کرایوں میں 32 فیصد تک اضافہ ہوا، جبکہ بڑے ٹریلرز کے کرایوں میں 13 سے 100 فیصد تک اضافہ سامنے آیا۔ آئل ٹینکرز کے کرایوں میں بھی 17 سے 67 فیصد تک اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے ۔خفیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گڈز ٹرانسپورٹ مہنگی ہونے سے اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اوسطاً 25 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ٹماٹر کی قیمت میں 125 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ آلو، پیاز اور دیگر سبزیوں کی قیمتیں بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو رہی ہیں۔ صرف تین روز میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں 25 فیصد اضافہ مارکیٹ میں مؤثر کنٹرول نہ ہونے کی نشاندہی کرتا ہے ۔ٹرانسپورٹ سیکٹر بھی شدید متاثر ہوا ہے ۔ کرایوں میں اضافے کے باعث مسافروں کی تعداد میں 10 سے 63 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ بس آپریشنز 27 سے 71 فیصد تک محدود ہو گئے ہیں۔ لاہور، فیصل آباد، حافظ آباد اور مری سمیت کئی شہروں میں بسوں کی بڑی تعداد سڑکوں سے غائب ہو چکی ہے ، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ ماہرین کے مطابق فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مہنگائی اور ٹرانسپورٹ بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے ۔