سینیٹ کمیٹی :الیکشن ایکٹ 2017 میں مجوزہ ترامیم متفقہ طور پر مسترد

سینیٹ کمیٹی :الیکشن ایکٹ 2017 میں مجوزہ ترامیم متفقہ طور پر مسترد

ایسی ترامیم کی جانی چاہئیں جو شفافیت اور عوامی اعتماد میں اضافہ کریں:پرویز رشید خواتین کیلئے الیکشن ایکٹ میں مقررہ 5فیصد کوٹہ بڑھانا چاہیے :سینیٹر زرقہ سہروردی

اسلام آباد (سید قیصر شاہ)سینیٹ قائمہ کمیٹی پارلیمانی امور نے متفقہ طور پر الیکشن ایکٹ 2017 میں مجوزہ ترمیمی بل مسترد کر دیا۔ سینیٹر خلیل طاہر کی زیر صدارت اجلاس میں سینیٹر زرقہ سہروردی تیمور کے 19 جنوری کو سینیٹ میں پیش الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیمی بل اور وزارتِ پارلیمانی امور کے پبلک سیکٹر ڈیویلپمنٹ پروگرام کا جائزہ لیا گیا۔ ڈاکٹر زرقہ سہروردی تیمور نے کہا الیکشن ایکٹ 2017 میں خواتین کے لیے جنرل نشستوں پر مقررہ پانچ فیصد کوٹہ بڑھایا جانا چاہیے ۔ انہوں نے پولنگ سٹیشنز پر معذور افراد کے لیے سہولیات کی فراہمی اور ریمپس لازمی قرار دینے کی تجویز دی۔

الیکشن کمیشن حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ سروے میں ایسے پولنگ سٹیشنز کا انتخاب کیا جاتا ہے جہاں بنیادی سہولیات بجلی، باؤنڈری وال، واش روم، پانی اور ریمپ دستیاب ہوں۔ ان تجاویز کو قانون کا حصہ بنانے کے بجائے الیکشن کمیشن کی ہدایات میں شامل کرنا زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے ۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا موجودہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور ایسے قوانین سے گریز کیا جائے جن پر عملدرآمد ممکن نہ ہو۔ سینیٹر پرویز رشید نے کہا ایسی ترامیم کی جانی چاہئیں جو شفافیت اور عوامی اعتماد میں اضافہ کریں۔ کمیٹی نے تفصیلی غور و خوض کے بعد متفقہ طور پر الیکشن ایکٹ 2017 میں مجوزہ ترمیمی بل مسترد کر دیا۔ سیکرٹری پارلیمانی امور نے بتایا کہ وزارتِ پارلیمانی امور کا پبلک سیکٹر ڈیویلپمنٹ پروگرام کے تحت کوئی منصوبہ زیر عمل نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں