پنجاب اسمبلی:اپوزیشن اور حکومتی ارکان میں تلخ جملوں کا تبادلہ
ناجائز چالانوں پر تنقید،انصاف نہ ملے تو آواز اٹھانامیرا حق ہے :رانا آفتاب احمد لیگل ایڈ پنجاب ترمیمی آرڈیننس و دیگرکے مسودہ قوانین پیش،کمیٹیوں کے سپرد
لاہور(سیاسی نمائندہ)کفایت شعاری مہم کے باوجود پنجاب اسمبلی کا اجلاس سپیکر ملک محمد احمد خان کی صدارت میں 1 گھنٹہ 17 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا، اجلاس کے دوران اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے درمیان مختلف امور پر تند و تیز جملوں کا تبادلہ ، سیاسی بیانات پر شور شرابا بھی دیکھنے میں آیا جبکہ امن و امان، مہنگائی اور بین الاقوامی صورتحال پر بھی اظہار خیال کیا گیا۔ اپوزیشن رکن رانا آفتاب احمد نے ناجائز چالانوں کے معاملے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے چار چالان ہو چکے اور متعلقہ محکمہ صرف ریویو کی بات کرتا ہے ،جب انصاف نہیں ملے گا تو ایوان میں آواز اٹھانا ان کا حق ہے ۔
حکومتی ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ اداروں کو مضبوط بنانا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اگر کسی اہلکار سے کوتاہی ہوئی تو کارروائی کی جائے گی۔ صحت کے شعبے میں ادائیگیوں میں تاخیر کے معاملے پر راجہ شوکت بھٹی نے کہا کہ اربوں روپے مختص ہونے کے باوجود نچلے طبقے کو تنخواہیں نہیں مل رہیں ، لوکل ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز کئی کئی ماہ ادائیگیاں نہیں کرتیں،ادویات فراہم کرنے والی کمپنیاں مشکلات کا شکار ہیں۔ پارلیمانی سیکرٹری اسماء عباسی نے ایوان کو بتایا کہ محکمہ ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ورکرز کو 40 ہزار روپے ماہانہ ادا کرنے کا پابند ہے ، معاہدوں کے مطابق کمپنیوں کو بروقت ادائیگی یقینی بنانا ہوگی۔
علاوہ ازیں اجلاس میں لیگل ایڈ پنجاب ترمیمی آرڈیننس 2026 ء سمیت صوبائی ملازمین کے سماجی تحفظ، رجسٹریشن اور پبلک سیکٹر یونیورسٹیز سے متعلق مسودہ قوانین بھی پیش کئے گئے جنہیں متعلقہ کمیٹیوں کو بھجوا دیا گیا۔ اجلاس میں ایران پر امریکا و اسرائیل کے حملوں پر بھی بحث ہوئی ۔ اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی نے حکومتی ارکان پر مذمت نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے جبکہ حکومتی ارکان نے پاک فوج اور ملکی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے حالات ماضی سے بہتر ہو رہے ہیں ، علاقائی کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کیا گیا، ایوان میں صحافتی اداروں میں ملازمین کی برطرفیوں اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف پیش کی گئی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی ،ایجنڈا مکمل ہونے پر اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا گیا۔