تیل قیمتوں میں اضافے پر قومی اسمبلی میں احتجاج، وزیراعظم خود آکر وضاحت دیں : اپوزیشن لیڈر

تیل قیمتوں میں اضافے پر قومی اسمبلی میں احتجاج، وزیراعظم خود آکر وضاحت دیں : اپوزیشن لیڈر

عوام پر ایٹم بم گرا دیا، 40 ہزار کمانے والا فیس دینے سے قاصر، معیشت مضبوط تو بوجھ کیوں ڈالا:ارکان روزانہ جائزہ لے رہے ، وزیراعظم نگرانی کر رہے :وزیرخزانہ، عالمی جنگ کے اثرات پوری دنیا پر:وزیرپٹرولیم

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، نامہ نگار، نیوز ایجنسیاں) قومی اسمبلی کے اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے وزیراعظم سے ایوان میں آ کر وضاحت دینے کا مطالبہ کر دیا، جبکہ حکومت نے عالمی حالات کو قیمتوں میں اضافے کی وجہ قرار دیا۔اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس کے دوران وقفہ سوالات میں ہی اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کیا۔ اپوزیشن رہنما بیرسٹر گوہر نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ عوام پر ایٹم بم گرانے کے مترادف ہے اور وزیراعظم کو خود آ کر صورتحال واضح کرنی چاہیے۔

ارکان اسمبلی نے کہا کہ 30 سے 40 ہزار روپے کمانے والا شہری اپنے بچوں کی فیس دینے سے بھی قاصر ہو چکا ہے۔ نور عالم خان نے سوال اٹھایا کہ اگر معیشت مستحکم ہو چکی ہے تو پھر عوام پر اتنا بوجھ کیوں ڈالا جا رہا ہے ۔ حکومتی ارکان امین الحق اور نوید قمر نے بھی اس معاملے پر کھل کر بحث کی حمایت کی۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایوان کو بتایا کہ پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر، قیمتوں کے رجحانات اور توانائی سے متعلق امور کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لیا جا رہا ہے اور وزیراعظم خود اس عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یکم مارچ سے کابینہ کمیٹی کے اجلاس روزانہ ہو رہے ہیں جن میں عالمی و علاقائی صورتحال کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ عالمی سطح پر جنگ کے اثرات کے باعث تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا، ایران سے متعلق صورتحال اور آبنائے ہرمز میں سپلائی متاثر ہونے سے عالمی منڈی میں قیمتیں 170 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی 80 سے 90 فیصد توانائی درآمد کرتا ہے ، اسی لیے عالمی قیمتوں کا اثر براہ راست پڑتا ہے ، تاہم حکومت نے 140 ارب روپے تک سبسڈی دے کر عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی۔ سعودی عرب اور دیگر ممالک سے تیل کی فراہمی جاری ہے جبکہ ایل این جی سپلائی کیلئے بھی متبادل انتظامات کیے گئے ۔اپوزیشن نے حکومتی وضاحت کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ قیمتوں میں اضافے کی اصل وجوہات نہیں بتائی گئیں، جبکہ مطالبہ کیا گیا کہ وزیراعظم پارلیمنٹ میں آ کر خود جواب دیں۔اجلاس کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید گرما گرمی دیکھنے میں آئی جبکہ اس معاملے پر باقاعدہ بحث کے امکانات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں