نواز شریف کینسر ہسپتال منصوبے میں مبینہ تاخیر اور ناقص تعمیر

نواز  شریف  کینسر  ہسپتال  منصوبے  میں  مبینہ  تاخیر  اور  ناقص  تعمیر

مالیاتی کارکردگی انتہائی کمزور ، 63 فیصد ہدف کے مقابلے میں صرف 31 فیصد فنڈز خرچ ، لیپس ہونے کاخدشہ مین بلڈنگ، بون میرو سینٹر اور بایومیڈیکل آلات کی تنصیب بھی سست ، مئی 2027 کی ڈیڈ لائن خطرے میں رپورٹ مرتب ،مسائل کو بروقت بہتر بنانے کی سفارشات پیش کردیں :ڈی جی مانیٹرنگ اینڈ ایوالوایشن ڈاکٹر فاروق

لاہور (محمد حسن رضا سے ) نواز شریف کینسر ہسپتال لاہور کے 74 ارب روپے کے میگا منصوبے میں نہ صرف تاخیر بلکہ مبینہ ناقص تعمیر، تکنیکی بے ضابطگیوں، کمزور مالیاتی کارکردگی اور انتظامی ناکامیوں کے سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔ سرکاری مانیٹرنگ  رپورٹس نے منصوبے کی کارکردگی کا پول کھول دیا اور پراجیکٹ پر سنگین سوالات اٹھا د ئیے ہیں۔سرکاری رپورٹ میں بتایا گیا کہ ناقص تعمیر، ڈیزائن کی سنگین غلطیاں، سریے کی غلط تنصیب اور دیگر تکنیکی خامیاں مریضوں کی جانوں کیلئے خطرہ ہیں۔ 15 ارب روپے جاری ہونے کے باوجود اربوں روپے استعمال نہ ہو سکے اور فنڈز لیپس ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ رپورٹ کے مطابق منصوبے کی مالیاتی کارکردگی انتہائی کمزور رہی، 63 فیصد ہدف کے مقابلے میں صرف 31 فیصد فنڈز خرچ ہوئے ، جبکہ فزیکل پیش رفت بھی سست رہی۔دستاویزات کے مطابق مین ہسپتال بلڈنگ صرف 4اعشاریہ 18 فیصد، بون میرو ٹرانسپلانٹ سینٹر 1اعشاریہ 43 فیصد جبکہ بایومیڈیکل آلات کی تنصیب محض 2اعشاریہ 52 فیصد مکمل ہو سکی ہے ۔ رپورٹ میں اشارہ دیا گیا کہ متعدد تکنیکی خامیاں، حفاظتی انتظامات کی کمی اور محکموں کے درمیان مؤثر رابطے کی عدم موجودگی منصوبے کی بروقت تکمیل میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔مانیٹرنگ ٹیم نے منصوبے کو "Need Consideration for Improvement" قرار دیتے ہوئے 58 کا مانیٹرنگ ریٹنگ انڈیکس دیا اور خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر اخراجات کی رفتار تیز نہ کی گئی، محکموں کے درمیان رابطہ بہتر نہ بنایا گیا اور آپریشنل تیاریوں کو مکمل نہ کیا گیا تو مئی 2027 کی ڈیڈ لائن بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔ ڈی جی مانیٹرنگ اینڈ ایوالوایشن پنجاب ڈاکٹر فاروق منظور نے کہا کہ رپورٹ مرتب کر دی گئی ہے اور ٹیموں نے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد بہت سے مسائل کو بروقت بہتر بنانے کی سفارشات پیش کی ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں