کابینہ کمیٹی:وزارت تجارت میں دیگرمحکموں سے افسرتعیناتی پرتشویش
وزیر تجارت کی کمیٹی کے مؤقف کی تائید،نیاپالیسی فریم تشکیل دینے کیلئے کمیٹی بنانیکافیصلہ
اسلام آباد (اپنے رپورٹرسے )سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے کابینہ نے کامرس اینڈ ٹریڈ گروپ میں دیرینہ اصلاحات پر زوردیتے ہوئے وزارت تجارت میں بڑی تعداد میں اسامیاں دیگر وزارتوں اور محکموں کے افسران کے پاس ہونے پرتشویش کااظہارکیا،کمیٹی کااجلاس سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیرِ صدارت ہوا۔ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے بتایا کہ کامرس اینڈ ٹریڈ گروپ کا تنظیمی ڈھانچہ دیگر وزارتوں کی طرح اہرامی (پیرامیڈ)طرز پر مبنی ہے اور 1994 کے قواعد کے تحت کام کر رہا ہے ،کمیٹی نے وزارتِ تجارت میں گریڈ 17 سے 21 تک کے سٹاف کے تناسب پر تشویش کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے اس امر کا نوٹس لیا کہ وزیرِ اعظم نے حال ہی میں برآمدات کاہدف 25 ارب ڈالرمقرر کیا ہے ، تاہم وزارتِ تجارت میں انسانی وسائل کی اکثریت ایسے افسران پر مشتمل ہے جو کامرس کیڈرز سے تعلق نہیں رکھتے ،ہدف کے حصول کیلئے ضروری ہے کہ کامرس اینڈ ٹریڈ گروپ کے ماہر اور تجربہ رکھنے والے افسر وں کو کلیدی کردار دیا جائے ۔ وفاقی وزیر تجارت نے کمیٹی کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے اس معاملے کو نہایت اہم قرار دیا اور وزارت کی بنیاد مضبوط بنانے کیلئے اصلاحات پر زور دیا، کمیٹی نے سفارش کی کہ وزارتِ تجارت اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت کے بعد ایک نیا پالیسی فریم ورک تشکیل دیں۔اس مقصد کیلئے ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا جو اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لے کر کامرس اینڈ ٹریڈ گروپ کے افسران کی کیڈرائزیشن سے متعلق ٹھوس سفارشات پیش کرے گی۔