بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں و مشنز کا آڈٹ، نئی پالیسی منظور

 بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں و مشنز کا آڈٹ، نئی پالیسی منظور

50ملین سے زائد بجٹ پرسالانہ،50ملین تک بجٹ پر2سال میں ایک بارآڈٹ ہوگا 10ملین سے کم بجٹ والے مشنز کا آڈٹ بوقت ضرورت3سال میں ایک بار کیا جائیگا

اسلام آباد (ایس ایم زمان) آڈیٹر جنرل پاکستان نے بیرون ملک قائم پاکستانی سفارت خانوں و مشنز کے آڈٹ کیلئے نظر ثانی شدہ نئی پالیسی کی منظوری دے دی، آڈٹ ٹیموں کو چار مختلف کیٹیگری میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں اعلیٰ، درمیانے اور کم خطرے والے سفارت خانوں و مشنز کا آڈٹ شامل ہے ، جبکہ مخصوص معاملات کیلئے سپیشل آڈٹ اور پرفارمنس آڈٹ ٹیمیں بھی تشکیل دی جائیں گی۔ مشنز کی درجہ بندی ان کے سالانہ بجٹ اور اخراجات کی بنیاد پر کی گئی ہے جس کے تحت 50 ملین روپے سے زائد بجٹ والے سفارت خانوں و مشنز کو ہائی رسک قرار دے کر ان کا سالانہ بنیادوں پر آڈٹ کیا جائے گا، جبکہ 10 سے 50 ملین تک کے بجٹ والے سفارت خانوں و مشنز کا آڈٹ دو سال میں ایک بار اور 10 ملین سے کم بجٹ والے مشنز کا آڈٹ بوقت ضرورت تین سال میں ایک بار کیا جائے گا۔ پالیسی کے تحت آڈٹ ٹیموں میں پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس (PA&AS) کے گریڈ 18 اور 19 کے افسر وں سمیت آڈٹ افسر اور پرفارمنس آڈٹ ماہرین شامل ہوں گے ۔ آڈٹ ٹیموں کے انتخاب کیلئے اہلیت کا معیار مقرر کیا گیا ہے جس کے تحت امیدوار افسران کا کم از کم دو سال کا فیلڈ آڈٹ تجربہ، بہترین سروس ریکارڈ ہونا لازمی ہے ،انتخاب کے عمل کو شفاف بنانے کیلئے 50 فیصد نمبروں پر مشتمل تحریری امتحان بھی لیا جائے گا جبکہ پیشہ ورانہ اسناد جیسے CIPFA، ACCA اور دیگر متعلقہ ڈپلومہ ہولڈرز کو اضافی نمبر دیئے جائیں گے ،حتمی انتخاب کیلئے ڈپٹی آڈیٹر جنرل کی سربراہی میں اختیاراتی کمیٹی انٹرویوز کے بعد آڈیٹر جنرل کو سفارشات پیش کرے گی۔ منتخب افسران کو بیرون ملک روانگی سے قبل اسلام آباد میں چھ ہفتوں کی خصوصی تربیتی مشق اور بریفنگ دی جائے گی۔ آڈٹ اسائنمنٹ پر جانے والے افسروں کو 80 فیصد ڈیلی الاؤنس جبکہ بقیہ 20 فیصد آڈٹ رپورٹ کی تسلی بخش تکمیل پر ادا کیا جائے گا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں