عالمی امن:پاکستان کی تاریخی کامیابی،دنیا کی نظریں اسلام آباد پر:ایرانی صدر کا شہباز شریف اور وزیر خارجہ کا فیلڈ مارشل عاصم منیر سے رابطہ،نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں وفد مذاکرات کیلئے پاکستان جائیگا:وائٹ ہائوس
جنگ بندی پہلا قدم ،منزل پائیدار امن ،ترقی و خوشحالی،بھائی کو بھائی سے لڑانے کی سازشیں ناکام ہوئیں،راتوں کو جاگ کر جو سفر طے ہوا یہ کوئی معمولی بات نہیں: شہباز شریف ،کابینہ میں تالیو ں سے استقبال چین ،سعودی عرب،برطانیہ ودیگر کا جنگ بندی کا خیرمقدم، قالیباف،عراقچی،سٹیو وٹکوف ،جیریڈ کشنر بھی مذاکرات کا حصہ،اسرائیلی خلاف ورزی پر آبنائے ہرمز دوبارہ بند،بحرین، قطر، امارات،سعودیہ پربھی حملے
اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں )عالمی امن کے لیے پاکستان نے تاریخی کامیابی حاصل کرلی ۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کو ششیں رنگ لے آئیں ۔ پاکستان کی ثالثی کے بعد امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا۔ مبصرین کے مطابق پاکستان نے کئی برسوں میں اپنی سب سے بڑی سفارتی کامیابی حاصل کی ہے ۔اب پوری دنیا کی نظر یں اسلام آباد پر لگ گئیں ، جہاں ہفتے سے امریکا اور ایران کے وفود میں مذاکرات ہو رہے ہیں ۔ امریکا نے نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں وفد بھیجنے کا اعلان کیا ہے ۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرو لائن لیویٹ کے مطابق امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیریڈ کشنر بھی اس وفد کا حصہ ہونگے ،انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکا کی اعلیٰ سطح کی قیادت اور چین کے درمیان بھی بات چیت ہو چکی ہے ۔ذرائع کے مطابق ایران کی جانب سے ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی مذاکرات میں شرکت کریں گے ۔وزیر اعظم شہباز شریف نے بدھ کو کابینہ اجلاس سے خطاب کر تے ہو ئے کہا کہ جنگ وقتی طور پر ٹل گئی ہے ، یہ پہلا قدم ہے مگر ہماری منزل پائیدار اور دیرپا امن، ترقی و خوشحالی ہے ۔انھوں نے بتایا کہ جمعے کو ان کی دعوت پر امریکی و ایرانی وفد پاکستان آ رہے ہیں۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں امن قائم ہو گا۔شہباز شریف نے کہا کہ اس سارے عمل میں سیاسی اور ملٹری قیادت ایک نقطے پر متحد تھی۔ اس جنگ میں بھائی کو بھائی سے لڑانے کی کوشش کی جا رہی تھی، بے پناہ اندرونی اور بیرونی سازشیں ہوئیں مگر خدا کو یہ منظور نہیں تھا۔انھوں نے بتایا کہ ڈپٹی وزیر اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اپنی وزارتِ خارجہ کی ٹیم کے ساتھ ایک مہینے سے دن رات کام کرتے رہے اور انتھک محنت کی اور اس کے ساتھ فیلڈ مارشل کئی راتیں جاگتے رہے اور جس طریقے سے انھوں نے امریکی و ایرانی قیادت سے بات کی، اس کے بغیر ہمیں سفارتی کامیابی حاصل نہ ہوتی۔شہباز شریف نے کہا کہ راتوں کو جاگ کر جو سفر طے ہوا یہ کوئی معمولی بات نہیں۔
اس طرح کی بے لوث کوششیں پوری زندگی نہیں دیکھیں جس کے لیے انھوں نے فیلڈ مارشل کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ نہ صرف وہ مئی 2025 کی جنگ کے ہیرو ہیں بلکہ جس طرح انھوں نے امریکی و ایرانی قیادت کے ساتھ دن رات شانہ بشانہ کام کیا، اس کے لیے بھی انھیں خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔انھوں نے صدر آصف زرداری، بلاول بھٹو اور میاں نواز شریف کا بھی شکریہ ادا کیا جنھوں نے ہر قدم پر معاونت اور رہنمائی فراہم کی۔ علاوہ ازیں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے بدھ کی دوپہر ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے جس میں ایران نے جمعہ کو اسلام آباد میں تہران اور واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کی شرکت کی تصدیق کی ہے ۔ اعلامیے کے مطابق تقریباً 45 منٹ سے زائد جاری رہنے والی اس ‘خوشگوار اور دوستانہ گفتگو’ کے دوران وزیراعظم نے ‘ایرانی قیادت کی دانشمندی اور دور اندیشی کو سراہا’ جنھوں نے جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی۔سعودی عرب نے جنگ بندی پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتا ہے ۔ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور پاکستان کے تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار کو سراہا۔ ایرانی سفارتخانے کے اعلامیے کے مطابق عباس عراقچی نے کہا کہ پاکستان کی مسلسل اور مؤثر کوششوں نے جنگ بندی کے اقدامات کو فروغ دیا ہے اور خطے میں امن و سلامتی کے قیام میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔دوسری جانب سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘سعودی عرب، پاکستان کی جانب سے کی جانے والی ثالثی کی اُن کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے ، جن کا مقصد ایک ایسے مستقل معاہدے تک پہنچنا ہے جو سلامتی اور استحکام کو یقینی بنائے اور اُن تمام مسائل کا حل پیش کرے جو کئی دہائیوں سے عدم استحکام اور عدمِ تحفظ کا باعث بنے ہوئے ہیں۔
’بیان میں مزید کہا گیا کہ ‘اسی کے ساتھ مملکت سعودی عرب اس امر پر زور دیتی ہے کہ آبنائے ہرمز کو بغیر کسی پابندی کے کُھلا رکھا جانا ضروری ہے ۔’چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا:چین متعلقہ فریقین کے جنگ بندی معاہدے تک پہنچنے کے اعلان کا خیرمقدم کرتا ہے ، اور اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ چین مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی کے لیے کام جاری رکھے گا۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گویترس نے جنگ بندی کا خیرمقدم کیا، لیکن تمام فریقین پر زور دیا کہ مشرق وسطیٰ میں طویل مدتی امن کے لیے اقدامات کریں۔ بر طانوی وزیر اعظم اسٹارمر نے کہامیں راتوں رات ہونے والے جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم کرتا ہوں، جو خطے اور دنیا کے لیے عارضی سکون لے آئے گا۔فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں نے کہا کہ اُن کی خواہش ہے کہ جنگ بندی میں لبنان کو بھی مکمل طور پر شامل کیا جائے ۔یورپی یونین کی اعلیٰ سفارتکار کاجا کالاس نے ایکس پر لکھا:یہ معاہدہ خطرات کو کم کرنے ، میزائل حملوں کو روکنے ، شپنگ دوبارہ شروع کرنے اور پائیدار معاہدے کی طرف سفارتکاری کے لیے جگہ بنانے کا انتہائی ضروری موقع فراہم کرتا ہے ۔ آسٹریلیا ،نیوزی لینڈ ، جاپان اور عراق نے بھی اسے مثبت پیش رفت قرار دیا۔
بیروت،اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں ،مانیٹرنگ نیوز)ایران جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود اسرائیلی فوج نے لبنان پر اب تک کی شدید ترین بمباری کی ہے جس میں 254شہید ، 1100 زخمی ہوئے ،ایرانی پاسداران انقلاب نے حملے نہ رکنے پر جواب دینے کی دھمکی دے دی، وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سیز فائر کی خلاف ورزیاں امن عمل کی روح کو متاثر کر رہی ہیں،تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے طے شدہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کا مکمل احترام کریں تاکہ سفارتی کوششوں کو آگے بڑھنے کا موقع مل سکے ۔خیال رہے گزشتہ رات پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں یہ اشارہ دیا گیا تھا کہ اس معاہدے میں لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں بھی شامل ہیں،جبکہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کے بیان کے مطابق جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر نہیں ہوتا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اسرائیل کی تائید کرتے ہوئے کہا حزب اللہ کی وجہ سے لبنان کو معاہدے میں شامل نہیں کیا گیا، لبنان کا معاملہ الگ ہے ، اس کو دیکھا جائے گا۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ لبنان میں جنگ بندی ایران کے مشرق وسطیٰ جنگ ختم کرنے کے 10 نکاتی منصوبے کی اہم شرط ہے ۔ ایرنی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا امریکا کو جنگ بندی یا اسرائیل کے ذریعے جنگ میں سے ایک راستہ چننا ہوگا۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے لبنان پر حملوں کے باعث جاری عارضی جنگ بندی معاہدے کو تباہ نہ ہونے دے ۔ادھر لبنان کے وزیر اعظم نوّاف سلام نے دوست ممالک سے اسرائیلی حملوں کو روکنے میں مدد کی اپیل کردی ۔جبکہ اسرائیل کی جنگ بندی خلاف ورزیوں کے بعد آبنائے ہرمز سے آئل ٹینکرز کو جانے سے ایک بار پھر روک دیا گیا۔قبل ازیں جنگ بندی کے بعد 2 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ، میری ٹائم مانیٹر میرین ٹریفک کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہاز یونان اور لائبیریا کے ہیں۔تاہم اس کے بعد آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت مکمل طور پر بند اور بحری جہازوں کو روک دیا گیا ہے ۔
ادھر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے اور بھی واقعات رپورٹ ہوئے ، ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوبی ایران کی فضائی حدود میں ایک ہرمیس 900 ڈرون مار گرایا ہے ۔یروشلم پر بھی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جہاں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ حکومت کی جانب سے رہائشیوں کو الرٹ بھی جاری کیا گیا ۔بحرین کی وزارت داخلہ نے کہا ایرانی ڈرون حملے کے نتیجے میں دو افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ڈرون سے شارپنل گرنے سے سیترا کے علاقے میں ‘متعدد مکانات’ کو نقصان پہنچا ہے ۔بحرین کی حکومت نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ آیا یہ ڈرون امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کے اعلان سے پہلے فائر کئے گئے تھے یا بعد میں۔قطری وزارت دفاع نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ ملک کی طرف داغے گئے میزائلوں کو روک لیا گیا ہے ۔متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کا ملک اس وقت ‘ایران کی جانب سے آنے والے میزائلوں اور ڈرونز سے نمٹ رہا ہے ۔’سعودی ڈائریکٹوریٹ آف سول ڈیفنس اور ریاض میں بی بی سی کے ایک صحافی کی سوشل میڈیا پوسٹس کے مطابق، سعودی شہری دفاع کے حکام نے بدھ کے روز علی الصبح دو انتباہات جاری کیے تھے ۔ادھر ایران میں عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد صفائی اور تعمیر نو کے ابتدائی مراحل کا آغاز ہو گیا۔