وزیر اعلیٰ سندھ کی چین کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کو تیز کرنے کی ہدایت
ایم او یوز کاغذوں تک محدود نہ رہیں، ٹائم لائنز اور جوابدہی کے ساتھ عملی پیش رفت چاہیے :مراد شاہ اجلاس میں تھر میں کوئلے سے گیس، یوریا پیداوار، ٹائر ری سائیکلنگ سمیت دیگر منصوبوں پر غور
کراچی (سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے چین کے ساتھ مشترکہ منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کر دی۔ انہوں نے زور دیا کہ مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) صرف کاغذوں تک محدود نہ رہیں بلکہ واضح ٹائم لائنز اور جوابدہی کے ساتھ عملی اقدامات کیے جائیں۔وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں شرجیل میمن، ناصر شاہ، محمد بخش خان مہر، محمد علی ملکانی، مشیر بحالی گیان چند اسرانی، معاونین خصوصی اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں صدر آصف علی زرداری کے حالیہ دورۂ چین کے بعد طے پانے والے معاہدوں کا جائزہ لیا گیا اور ان پر عملدرآمد کیلئے حکمت عملی پر غور کیا گیا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ چین کے ساتھ تعاون سندھ کے انفرااسٹرکچر کی بہتری، صنعتی ترقی اور معاشی استحکام کیلئے اہم موقع ہے، اس لیے تمام محکمے رکاوٹیں دور کر کے منصوبوں پر تیزی سے کام کریں۔
انہوں نے ہدایت دی کہ ہر منصوبے کیلئے فوکل میکنزم قائم کیا جائے اور باقاعدگی سے پیش رفت رپورٹ وزیراعلیٰ آفس کو پیش کی جائے ۔اجلاس میں فائر سیفٹی اور ایمرجنسی سروسز کے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا جس کے تحت جدید فائر فائٹنگ آلات، فائر ٹرکس اور ایمرجنسی رسپانس سسٹمز کی فراہمی پر غور کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ بلدیات کو ہدایت دی کہ چینی کمپنیوں کے ساتھ جی ٹو جی معاہدے کو جلد حتمی شکل دی جائے ۔تھر میں کوئلے سے گیس اور یوریا کی پیداوار کے منصوبے پر بھی غور کیا گیا جس کے تحت مقامی وسائل کو بروئے کار لا کر توانائی اور زرعی شعبے کو مضبوط بنانے کی تجویز دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے اس منصوبے کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے اس پر تیزی سے پیش رفت کی ہدایت کی۔
لائیو اسٹاک ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم، جدید ویکسی نیشن پروگرامز اور بیماریوں کی تشخیص کے مراکز کے قیام سے متعلق تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا جبکہ ٹائر ری سائیکلنگ منصوبے کے تحت پلاسٹک اور ربڑ ری سائیکلنگ سہولت کو اسپیشل اکنامک زون میں قائم کرنے کی تجویز زیر غور آئی۔ ماحولیاتی اور پانی کے بعض منصوبوں کو تکنیکی و مالی بنیادوں پر غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے مقامی اور کم لاگت حل اپنانے کی ہدایت دی۔ زراعت کے شعبے میں کنٹرولڈ ایگریکلچر سائنس اینڈ ایجوکیشن پارک کے قیام کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعاون سندھ کی ترقی کیلئے نہایت اہم ہے ، بروقت عملدرآمد، شفافیت اور مؤثر نگرانی کے ذریعے ہی ان منصوبوں کو دیرپا معاشی فوائد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔