پی ٹی آئی حکومت رہتی تو پٹرول 200 روپے لٹر ہوتا : مزمل اسلم
جی ڈی پی 550ارب ڈالر تک ، شرحِ نمو 7فیصد ہوتی :ترجمان پختونخوا حکومت
پشاور(آئی این پی )مشیرِ خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت ختم نہ ہوتی تو پٹرول کی قیمت 200 روپے فی لٹر ہوتی۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے موجودہ حکومت سے معاشی موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی دور میں ڈالر 230 روپے ، پٹرول 200 روپے اور بجلی 30 روپے فی یونٹ ہوتی جبکہ عوام کو آٹا 125 کے بجائے 80 روپے کلو فراہم کیا جا رہا ہوتا۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ حکومت نہ ہٹائی جاتی تو ملکی جی ڈی پی 550 ارب ڈالر تک پہنچ جاتی اور شرحِ نمو موجودہ 2اعشاریہ 8 فیصد کے مقابلے میں 7 فیصد ہوتی ،پی ٹی آئی کے تسلسل سے غربت کی شرح 45 فیصد سے کم ہو کر 30 فیصد رہ جاتی، جس سے کروڑوں افراد خطِ غربت سے باہر نکل آتے ۔مشیرِ خزانہ نے زور دیا کہ پی ٹی آئی حکومت میں نہ صرف مزدور کی اجرت 30 فیصد زیادہ ہوتی بلکہ ملک میں نئے ڈیمز، جنگلات کی افزائش اور سرمایہ کاری کے ذریعے پائیدار ترقی کا عمل جاری رہتا۔