امریکا ایران جنگ کامعاملہ جلدی حل نہیں ہو گا :نجم سیٹھی
صدر ٹرمپ نے جے ڈی وینس کو بھیجا تھا کہ کچھ بات شروع کریں بُوٹس ان گراؤنڈ سارا ڈرامہ:پروگرام’’آج کی بات سیٹھی کیساتھ ‘‘
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ میں نے پہلے بھی بتا یا تھا کہ پیچیدگیاں اور مشکلات کیا ہیں،کورین وار دو سال سترہ دن چلی، اس پر مذاکرات تقریباً دو سال اور 17 دن تک جاری رہے ،پھر جاکر سیز فائر ہوا،امریکا، ایران جنگ کامعاملہ زیادہ جلدی حل نہیں ہو گا ،مجھے پریشانی اور حیرانی ہوئی کہ ہمارے کچھ میڈیا کے دوست بہت زیادہ optimistic تھے اور ٹویٹس میں کہنا شروع کردیا کہ بہت اہم بریک تھرو ارہی ہے ۔دنیا نیوز کے پروگرام‘‘آج کی بات سیٹھی کیساتھ ’’میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ویتنام جنگ 1955سے 1975 تک جاری رہی،مذاکرات کیلئے چار سال آٹھ ماہ چودہ دن لگے پھر جاکر پیرس امن معاہدہ ہوا،پاک بھارت جنگ 1965میں سات دن لگ گئے تھے پھر تاشقند معاہدہ ہوا،ایسی جنگوں میں وقت لگتا ہے ،روس یوکرین جنگ کئی سال سے جاری ہے اوراس پر کئی بار مذاکرات ہوئے اور جاری ہیں ۔
نجم سیٹھی نے اسلام آباد مذاکرات کی کچھ چیزیں پہلے سے طے ہو چکی تھیں جو انہوں نے اس دفعہ اناؤنس نہیں کیں مثلا منجمد اثاثے بحال ہو جائیں گے ، اس قسم کی باتیں سننے میں آرہی تھیں،مجھے پہلے دن سے شک تھا کہ جو امریکی ٹیم ائی ہے یہ وہ نہیں جو بریک تھرو کرے گی،مجھے تو یہ بھی شک تھا کہ ٹرمپ چاہیں گے ہی نہیں کہ وینس کوئی بریک تھرو کریں ، میرا خیال ہے ٹرمپ نے جے ڈی وینس کو بھیجا تھا کہ کچھ بات شروع کریں،پھرآگے دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے ،اسی طرح ایران کی طرف سے جو بات سامنے آئی کہ بہت سی با تیں طے ہوچکی تھیں مگر انہوں نے ہماری بات نہیں مانی،ایران ،امریکا دونوں نے نیوٹرل قسم کے مؤقف دیئے ہیں ۔ یہ سیزفائر 15 دن کا ہے مگر یہاں دو قسم کا فکر ہے ، ایک تو یہ خبریں آرہیں کہ نتین یاہو نہیں چاہے گاکوئی معاملہ حل ہو،دوسرا وہ سیزفائر کی خلاف ورزی کریگا جبکہ ایران آبنائے ہرمز دینے والا نہیں ۔سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ اس وقت سب کا فوکس آبنائے ہرمز پرہے جبکہ ایران کا فوکس دوسرے ایشوز پر ہے ،اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلے 15 دن میں کیا موقف اختیار کیا جاتا ہے ،بُوٹس ان گراؤنڈ ڈرامہ ہے سارا، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،یہ صرف دھمکیاں ہیں،اگر ایک ادھ جزیرے پر چلے جاتے ہیں تو یہ اہم نہیں۔