پنجاب کا بلدیاتی قانون آئین سے متصادم، عدالت میں چیلنج کردیا : حافظ نعیم
صوبائی حکومتیں اختیارات نچلی سطح پر منتقل نہیں کرنا چاہتیں ،پنجاب میں جمہوریت کی بجائے آمریت کا تاثر ابھر رہا گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ عوام پر ظلم ، عوامی ریلیف کیلئے توانائی کے شعبے میں مو ثر اقدامات کئے جائیں : میڈیا سے گفتگو
لاہور (کورٹ رپوٹر) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پنجاب کا موجودہ مقامی حکومتوں کا قانون آئین سے متصادم ہے اور اسے عدالت میں چیلنج کر دیا گیا ہے ۔ صوبائی حکومتیں نچلی سطح پر اختیارات منتقل کرنے میں سنجیدہ نہیں اور بلدیاتی انتخابات سے گریز کیا جا رہا ہے ۔شفاف اور بااختیار بلدیاتی نظام ہی جمہوریت کو مضبوط بنا سکتا ہے ۔بدھ کو لاہور ہائی کورٹ میں جماعت اسلامی کی جانب سے پنجاب کے مقامی حکومتوں کے قانون کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت ایسا نظام متعارف کرانا چاہتی ہے جس میں کونسلرز غیر جماعتی بنیادوں پر منتخب ہوں، جبکہ یونین کونسلز کی سطح پر عوام کو حقیقی حکمرانی کا حق نہیں دیا جا رہا۔ مجوزہ قانون کے تحت عوام نچلی سطح پر اپنی مرضی سے نمائندے منتخب کرنے کے اختیار سے بھی محروم ہو گئے ہیں۔
پنجاب میں جمہوریت کے بجائے آمریت کا تاثر ابھر رہا ہے ، کیونکہ صوبائی حکومت اقتدار کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کے بجائے اپنے پاس مرکوز رکھنا چاہتی ہے ۔ بلدیاتی نظام جمہوریت کی نرسری ہوتا ہے ، لیکن موجودہ اقدامات اس نرسری پر کلہاڑا چلانے کے مترادف ہیں۔انہوں نے مسلم لیگ (ن) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ جماعت خاندانی نظام پر چل رہی ہے اور اپنی صفوں میں بھی نئی قیادت کو آگے آنے کا موقع نہیں دیتی ، بڑی سیاسی جماعتیں عمومی طور پر بلدیاتی انتخابات کو سنجیدگی سے نہیں لیتیں، جس کے باعث مقامی سطح پر عوامی مسائل حل نہیں ہو پاتے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلدیاتی انتخابات کے لیے ایسا قانون بنایا جائے جو عوام کی حقیقی نمائندگی کو یقینی بنائے اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرے ۔ انہوں نے ملک میں جاری بجلی بحران پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو ہو چکا ہے ۔ گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ عوام پر ظلم ہے ، حکومت عوام کوریلیف دینے کیلئے توانائی کے شعبے میں فوری اور مو ثر اقدامات کرے۔