ثنا یوسف قتل کیس:ملزم کا ٹرائل کورٹ پر عدم اعتماد، فیصلہ محفوظ

ثنا یوسف قتل کیس:ملزم کا ٹرائل کورٹ پر عدم اعتماد، فیصلہ محفوظ

آپ کا جو رویہ ٹرائل کورٹ سے ہے وہ آپ کے ساتھ کیسے چلے گی؟:چیف جسٹس اِدھر آ جاتے ہیں اُدھر جاتے نہیں، عدالت کو بتا کر آنا چاہیے :وکیل صفائی سے مکالمہ

اسلام آباد (اپنے نامہ نگار سے )اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کی عدالت نے ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس میں ٹرائل کورٹ پر عدم اعتماد کے معاملہ میں ملزم عمر حیات کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ عدالتی استفسار پر درخواست گزار وکیل نے بتایاکہ رپورٹ فائل کردی گئی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ کیا کہتی ہے رپورٹ، ماڈل کورٹ کے پاس کیس ہے ، وہ تو جلدی ہی کرے گی۔ ملزم عمر حیات کے وکیل نے کہاکہ ٹرائل کورٹ کا ہمارے ساتھ کنڈکٹ ٹھیک نہیں، ہم نے کبھی التواء نہیں مانگا، سرکاری وکیل نامزدکرکے فوری جرح کرلی جاتی ہے۔

استدعا ہے پہلے سے جرح ختم کر کے ہمیں دوبارہ جرح کرنے کا حق دیاجائے ، ٹرائل کورٹ پر اعتماد نہیں دوسری کورٹ منتقل کر دیا جائے ۔ مدعی مقدمہ کے وکیل نے کہاکہ چھ ماہ میں انہوں نے صرف دو گواہوں پر جرح کی، ٹرائل کورٹ ماڈل کورٹ ہے اس نے انہیں بہت سہولت دی۔ چیف جسٹس نے ملزم کے وکیل سے کہا آپ کا جو رویہ ٹرائل کورٹ کے ساتھ ہے ایسے ٹرائل کورٹ آپ کے ساتھ کیسے چلے گی، جرح کیلئے آپ دس گھنٹے لیں اور نہیں کریں گے کہ ہمیں وقت دیاجائے تو کیا ہوگا۔ آپ ادھر آ جاتے ہیں ادھر جاتے نہیں، عدالت کو بتا کر آنا چاہیے ، کونسل کا کنڈکٹ نظر نہیں آ رہا، وہ ماڈل کورٹ ہے اور سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے ، دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں