انسدادِسموگ، آلودگی:4ارب کامنصوبہ شروع کرنیکی منظوری
الیکٹرک ٹرک، ہائی پریشر واٹر سپرے سسٹمز، اینٹی سموگ گنز، آلات لئے جائینگے سرکاری رپورٹ میں منصوبے کے کمزور پہلو بھی واضح، اصلاحات ناگزیر :ماہرین
لاہور(محمد حسن رضا سے )پنجاب حکومت نے سموگ اور خطرناک فضائی آلودگی پر قابو پانے کیلئے 4 ارب روپے سے زائدکا بڑا منصوبہ شروع کرنے کی منظوری دیدی جسکے تحت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے آلودگی کم کرنے کی کوشش کی جائیگی، تاہم منصوبے سے متعلق سرکاری رپورٹ میں جہاں اسکے خدوخال بیان کئے گئے ہیں وہیں اسکی متعدد تکنیکی، مالی اور پالیسی سطح کی کمزوریاں بھی واضح کر دی گئی ہیں۔ منصوبے کا بنیادی مقصد شہری علاقوں خصوصاً لاہور میں فضائی آلودگی کو فوری جزوی طور پر کم کرنا ہے ۔ اس کیلئے حکومت نے اینٹی سموگ گنز کو الیکٹرک ٹرکوں پر نصب کرنے کی منظوری دی ہے ۔ یہ گنز پانی کو باریک ذرات کی شکل میں فضا میں سپرے کریں گی تاکہ ہوا میں موجود پارٹیکیو لیٹ میٹر (PM2.5 اور PM10)کو وقتی طور پر نیچے بٹھایا جا سکے ۔
منصوبے کے تحت متعدد الیکٹرک ٹرک، ہائی پریشر واٹر سپرے سسٹمز، سپیشلائزڈ اینٹی سموگ گنز، آپریشنل آلات اور کنٹرول میکنزم حاصل کئے جائینگے ۔ آپریشنل سٹاف، ڈرائیورز، ٹیکنیکل عملہ اور مینٹی ننس سپورٹ بھی منصوبے کا حصہ ہونگے ۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے شہریوں کو فوری ریلیف ملے گا اور آلودگی کی شدت کم ہوگی۔ تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ ماڈل بنیادی مسئلے کا حل نہیں بلکہ عارضی انتظام ہے ۔ واٹر سپرے صرف ہوا میں موجود ذرات کو وقتی طور پر کم کرتا ہے ، جیسے ہی سپرے رکتا ہے آلودگی دوبارہ بڑھ جاتی ہے ۔ اسکے باوجود اربوں روپے اسی ماڈل پر خرچ کیے جا رہے ہیں جس پر سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ یہ سرمایہ کاری دیرپا نتائج دے سکے گی یا نہیں؟۔رپورٹ کے مطابق سموگ کی اصل وجوہات ٹریفک کا بے تحاشا دباؤ، صنعتی اخراج اور کنسٹرکشن ڈسٹ ہیں جن پر مؤثر کنٹرول کے بغیر عارضی اقدام سے مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔
اس بات کا بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ اینٹی سموگ پالیسیز اور اقدامات غیر مؤثر ثابت ہوئے ہیں اور سسٹمیٹک کمزوریاں بدستور موجود ہیں۔ آلودگی کی بار بار واپسی اس بات کا ثبوت قرار دی گئی ہے کہ بنیادی اصلاحات پر خاطر خواہ کام نہیں کیا گیا۔ مانیٹرنگ اور کنٹرول سسٹم کی کمزوری کو بھی بڑی خامی تسلیم کیا گیا ہے ۔ رئیل ٹائم ایئر کوالٹی مانیٹرنگ کا مؤثر نظام موجود نہیں جس سے آلودگی کی درست پیمائش ہو رہی ہے اور نہ ہی اسکے مطابق بروقت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف عارضی اقدامات کی بجائے ٹریفک مینجمنٹ، انڈسٹریل ریگولیشن، اور کنسٹرکشن ڈسٹ کنٹرول جیسے بنیادی شعبوں میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔