شہباز کادورہ سعودیہ، قطر و ترکیہ سٹرٹیجک سفارتی پیش رفت

 شہباز کادورہ سعودیہ، قطر و ترکیہ سٹرٹیجک سفارتی پیش رفت

معیشت کو سہارا ملنے کی توقع، علاقائی توازن برقرار رکھنا پاکستان کیلئے بڑا چیلنج

(تجزیہ:سلمان غنی)

وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کو ٹائمنگ کے اعتبار سے روایتی سفارتکاری کے بجائے ایک اہم اسٹرٹیجک اقدام قرار دیا جا رہا ہے ۔ امریکا ایران کشیدگی، جنگ بندی اور اسلام آباد میں ممکنہ مذاکراتی عمل کے تناظر میں یہ دورے غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ دفتر خارجہ کے مطابق سعودی عرب اور قطر کے دورے دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے ساتھ ساتھ خطے میں امن و سلامتی کے امور پر مشاورت کیلئے ہیں، جبکہ ترکیہ کا دورہ عالمی ڈپلومیسی فورم میں شرکت کے ساتھ اہم عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں پر مشتمل ہوگا۔ماہرین کے مطابق پاکستان اس وقت ایک بیلنسنگ سٹیٹ کا کردار ادا  کر رہا ہے ، تاہم اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ اس سفارتی عمل میں اپنی مؤثر حیثیت منوا سکے ۔ معاشی ماہرین اس دورے کو نہ صرف سکیورٹی بلکہ معاشی تناظر میں بھی اہم قرار دے رہے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کیلئے تین ارب ڈالر کی مزید مالی معاونت متوقع ہے اور موجودہ ڈیپازٹس کو بھی طویل مدت کیلئے بڑھایا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی برادری پاکستان کے سفارتی کردار کو تسلیم کرتے ہوئے معاشی تعاون کیلئے آمادہ دکھائی دیتی ہے ، جس سے پاکستان کو بیرونی قرضوں اور معاشی استحکام کے حوالے سے تقویت مل سکتی ہے ۔ اس تناظر میں یہ دورہ نہ صرف سفارتی بلکہ معاشی بقا کیلئے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے ۔سعودی عرب کو پاکستان کا سب سے اہم معاشی شراکت دار سمجھا جا رہا ہے ، جس نے مشکل وقت میں مالی مدد فراہم کی، جبکہ قطر کو ایک خاموش مگر مؤثر سفارتی کھلاڑی قرار دیا جا رہا ہے جو پس پردہ سفارتکاری میں اہم کردار رکھتا ہے ۔ قطر کے ساتھ حالیہ روابط اور یکجہتی کے اظہار کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بہتری کی توقع ہے ۔ترکیہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو مستقبل کے سٹرٹیجک پارٹنرشپ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔ موجودہ علاقائی صورتحال میں ترک قیادت سے مشاورت کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے تاکہ مشترکہ مؤقف اختیار کیا جا سکے ۔ماہرین کے مطابق پاکستان کیلئے سب سے بڑا چیلنج علاقائی توازن برقرار رکھنا اور داخلی استحکام کو یقینی بنانا ہے ، کیونکہ مضبوط داخلی بنیاد کے بغیر کوئی بھی سفارتی کامیابی پائیدار نہیں ہو سکتی۔یہ دورہ عالمی سطح پر یہ پیغام دینے کی کوشش بھی ہے کہ پاکستان اب ایک فعال اور بااثر سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور خطے میں ثالثی کے عمل کو آگے بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ عسکری و سیاسی قیادت کی ہم آہنگ حکمت عملی کے تحت بیک وقت مختلف ممالک کے دورے اس بات کا اشارہ ہیں کہ پاکستان مشرق وسطٰی میں اپنے کردار کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں