سینکشن لوڈ سے زیادہ سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کیخلاف کارروائی کا فیصلہ، نوٹسز جاری

سینکشن لوڈ سے زیادہ سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کیخلاف کارروائی کا فیصلہ، نوٹسز جاری

زائد ایکسپورٹ یونٹس نیٹ میٹرنگ قوانین کی خلاف ورزی، صارفین تیس دن میں مسئلہ حل کریں ورنہ کنکشن کٹ جائیگا صارفین نئے لوڈ کے مطابق معاہدہ کریں تو نئے سولر ریگولیشنز لاگو ہونگے ، یونٹ کے بدلے یونٹ نظام ختم:پاور ڈویژن حکام

اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی)سینکشن لوڈ سے زیادہ سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کیخلاف کارروائی کافیصلہ ، نوٹسز جاری، وہ سولر صارفین جنہوں نے سولر نیٹ میٹرنگ لگائی ہے اور جن کی نیٹ میٹرنگ سینکشن لوڈ سے زیادہ ہے حکومت کی جانب سے انہیں نوٹسز کا اجراشروع ہو گیا ۔ سینکشن لوڈ سے زیادہ نیٹ میٹرنگ رکھنے والے صارفین کے کنکشن منقطع کیے جا سکتے ہیں۔مختلف بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے بجلی کے بلوں پر نوٹسز  جاری کیے ہیں جن میں صارفین کو بتایا گیا ہے کہ انہوں نے جتنے یونٹس ایکسپورٹ کیے ہیں وہ سینکشن لوڈ سے زیادہ ہیں، جو نیٹ میٹرنگ قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔ صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 30 دن کے اندر مسئلہ حل کریں بصورت دیگر ان کا کنکشن منقطع کیا جا سکتا ہے ۔سینکشن لوڈ سے مراد وہ بجلی کی مقدار ہے جو بجلی کی تقسیم کار کمپنی کسی صارف کو اس کی ضرورت کے مطابق استعمال کے لیے منظور کرتی ہے ۔

مثال کے طور پر اگر کسی صارف کو 5 کلوواٹ کی اجازت دی گئی ہو تو یہی اس کا سینکشن لوڈ کہلاتا ہے جبکہ اگر صارف نے 10 کلوواٹ کا سولر نیٹ میٹرنگ سسٹم نصب کر رکھا ہو تو یہ منظور شدہ لوڈ سے زیادہ ہے جو نیٹ میٹرنگ قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔حکام کے مطابق بعض صارفین نے کم لوڈ کے معاہدے کے باوجود زیادہ استعداد کے سولر سسٹمز نصب کر کے نیٹ میٹرنگ کے ذریعے زیادہ بجلی نیشنل گرڈ کو فراہم کی جو ایک بوجھ بنتی ہے ۔ ایسے صارفین کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے اور ان کے کنکشن منقطع کیے جا سکتے ہیں۔اس موضوع پر پاور ڈویژن حکام نے روزنامہ دنیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جن صارفین کو یہ نوٹسز ملے ہیں وہ اپنے متعلقہ ایس ڈی او یا دیگر حکام سے رجوع کر سکتے ہیں۔ صارفین یا تو نئے لوڈ کے مطابق حکومت کے ساتھ نیا معاہدہ کر سکتے ہیں یا اپنا لوڈ کم کر کے مسئلہ حل کر سکتے ہیں۔حکام کے مطابق اگر کسی صارف نے زیادہ لوڈ کے مطابق نئے معاہدے کے لیے درخواست دی اور نیا معاہدہ ہو گیا تو ان پر نئے سولر ریگولیشنز کا اطلاق ہوگا کیونکہ پرانے معاہدوں پر نئے ریگولیشنز کا اطلاق اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک موجودہ معاہدہ ختم نہ ہو جائے ۔

نئے قوانین کے تحت یونٹ کے بدلے یونٹ والا نظام ختم کر دیا گیا ہے اور اس کی جگہ نیٹ بلنگ سسٹم نافذ کر دیا گیا ہے ۔ سولر نیٹ میٹرنگ صارفین اب نیٹ بلنگ سسٹم کے ذریعے بجلی فروخت کر سکیں گے ۔ صارفین سے خریدی جانے والی بجلی کے نرخ الگ ہوں گے جبکہ انہیں فراہم کی جانے والی بجلی کی قیمت الگ ہوگی۔صارفین کی سولر سے پیدا شدہ بجلی نیشنل ایوریج انرجی پرچیز پرائس کے مطابق خریدی جائے گی، جبکہ نیٹ میٹرنگ صارفین کو بجلی موجودہ رائج ٹیرف کے مطابق فراہم کی جائے گی۔ریگولیشنز کے مطابق ڈسکوز صارفین کے لیے دو طرفہ میٹر یا علیحدہ میٹر نصب کرنے کی پابند ہوں گی۔ یعنی جو بجلی وہ نیشنل گرڈ کو فراہم کریں گے اس کا الگ میٹر ہوگا، جبکہ جو بجلی وہ نیشنل گرڈ سے حاصل کریں گے اس کا حساب الگ میٹر کے ذریعے رکھا جائے گا۔صارفین کو ایک کلوواٹ سے ایک میگاواٹ تک بجلی پیدا کرنے کی اجازت ہوگی۔ سولر نیٹ میٹرنگ کے لیے معاہدہ پانچ سال کے لیے ہوگا، جس کی مدت مکمل ہونے پر مزید پانچ سال کے لیے تجدید کی جا سکے گی۔بلنگ سائیکل کے اختتام پر نیٹ بلنگ نظام کے تحت بل جاری کیا جائے گا جبکہ نیشنل گرڈ کو اضافی بجلی کی فراہمی پر صارفین کو سہ ماہی بنیادوں پر ادائیگی کی جائے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں