ڈیڑھ ماہ میں عوام سے 180 ارب روپے کی پٹرولیم لیوی وصول

ڈیڑھ ماہ میں عوام سے 180 ارب روپے کی پٹرولیم لیوی وصول

جولائی تاوسط اپریل تک حکومت نے 1 ہزار 234 ارب پی ڈی ایل جمع کی جو گزشتہ سال سے 400 ارب زیادہ مارچ میں 52 ارب اضافی وصول کیے گئے ، درآمدی پٹرول ڈیزل پر بھی 598 ارب پی ڈی ایل حاصل ہوئی

اسلام آباد (مدثر علی رانا) امریکا ایران جنگ کے دوران گزشتہ ڈیڑھ ماہ میں حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر عوام سے  180 ارب روپے سے زائد پٹرولیم لیوی وصول کی۔ رواں مالی سال جولائی سے مڈ اپریل تک مجموعی طور پر 1 ہزار 234 ارب روپے پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) کلیکشن رہی جو گزشتہ مالی سال کی نسبت تقریباً 4 سو ارب روپے زیادہ ہے ۔گزشتہ ایک ماہ مارچ کے دوران مالی سال 2024-25 کے مارچ کی نسبت 52 ارب روپے پی ڈی ایل کی مد میں اضافی اکٹھے کیے گئے ۔ رواں مالی سال کے لیے پی ڈی ایل کا ہدف 14 سو 68 ارب روپے مقرر ہے اور مالی سال کے اختتام تک حکومت کے اس ہدف سے زیادہ وصولی کا امکان ہے ۔دستاویز کے مطابق رواں مالی سال جولائی میں 157 ارب روپے ، اگست میں 103 ارب 46 کروڑ روپے ، ستمبر میں 112 ارب 85 کروڑ روپے ، اکتوبر میں 143 ارب 48 کروڑ روپے ، نومبر میں 148 ارب 36 کروڑ روپے ، دسمبر میں 162 ارب 46 کروڑ روپے ، جنوری میں 108 ارب 76 کروڑ روپے ، فروری میں 120 ارب 39 کروڑ روپے اور مارچ میں 139 ارب 48 کروڑ روپے اکٹھے کیے گئے جبکہ اپریل میں اب تک 38 ارب روپے وصول کیے جا چکے ہیں۔

رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ جولائی سے مارچ کے دوران 1 ہزار 196 ارب روپے سے زائد پی ڈی ایل اکٹھی ہوئی۔ ذرائع کے مطابق جولائی سے مڈ اپریل تک درآمدی پٹرول اور ڈیزل پر 598 ارب روپے سے زائد اکٹھے کیے گئے جبکہ گزشتہ مالی سال اسی عرصے کے دوران 424 ارب روپے جمع ہوئے تھے ۔ اس طرح رواں مالی سال درآمدی پٹرول اور ڈیزل پر تقریباً 175 ارب روپے زائد وصول کیے گئے ۔اس کے علاوہ درآمدی کروڈ آئل کو مقامی سطح پر ریفائن کرنے کے بعد پٹرول، ڈیزل، مٹی کے تیل سمیت چار مصنوعات پر جولائی سے مارچ کے دوران 635 ارب 19 کروڑ روپے پی ڈی ایل جمع کی گئی۔ذرائع کے مطابق کسٹمز انفورسمنٹ کی کارروائیوں سے پٹرولیم مصنوعات کی سمگلنگ میں کمی آئی جس کے باعث گزشتہ مالی سال کی نسبت آمدن میں اضافہ ہوا اور پی ڈی ایل وصولیوں میں بہتری دیکھنے میں آئی۔ ایف بی آر کسٹمز نے ملک بھر میں 1576 غیر قانونی پٹرول پمپس کی نشاندہی کی جن میں سے 1442 پمپس کو سیل کر دیا گیا۔

دستاویز کے مطابق ڈائریکٹ درآمدی پٹرول اور ڈیزل پر جولائی میں 83 ارب 37 کروڑ روپے ، اگست میں 43 ارب 41 کروڑ روپے ، ستمبر میں 56 ارب 70 کروڑ روپے ، اکتوبر میں 72 ارب 55 کروڑ روپے ، نومبر میں 72 ارب 86 کروڑ روپے ، دسمبر میں 87 ارب 14 کروڑ روپے ، جنوری میں 41 ارب 81 کروڑ روپے ، فروری میں 39 ارب 27 کروڑ روپے ، مارچ میں 64 ارب 95 کروڑ روپے اور مڈ اپریل تک 36 ارب 23 کروڑ روپے پی ڈی ایل جمع ہوئی۔اسی طرح درآمدی کروڈ آئل کو ریفائن کرنے کے بعد پٹرول، ڈیزل، مٹی کے تیل سمیت چار مصنوعات پر جولائی میں 73 ارب 63 کروڑ روپے ، اگست میں 60 ارب 4 کروڑ روپے ، ستمبر میں 56 ارب 15 کروڑ روپے ، اکتوبر میں 70 ارب 93 کروڑ روپے ، نومبر میں 75 ارب 50 کروڑ روپے ، دسمبر میں 75 ارب 29 کروڑ روپے ، جنوری میں 66 ارب 95 کروڑ روپے ، فروری میں 81 ارب 11 کروڑ روپے ، مارچ میں 74 ارب 52 کروڑ روپے اور مڈ اپریل تک 1 ارب 3 کروڑ روپے پی ڈی ایل جمع ہوئی ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں