مشرق وسطیٰ تنازعے کے باوجود پاکستانی معیشت بحران سے نمٹنے کی بہتر صلاحیت رکھتی ہے:گورنر سٹیٹ بینک

مشرق  وسطیٰ  تنازعے  کے  باوجود  پاکستانی  معیشت بحران  سے  نمٹنے  کی  بہتر  صلاحیت  رکھتی  ہے:گورنر  سٹیٹ  بینک

پاکستان کے کلیدی معاشی اشارئیے توقع سے زیادہ تیزی سے بہتر ہوئے ،محتاط زری و مالیاتی پالیسیوں سے مالیاتی ، بیرونی ذخائر مضبوط بنانے میں مدد ملی،مہنگائی کم ہوئی: جمیل احمد زرمبادلہ ذخائر 16اعشاریہ 4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ، آر ڈی اے اکاؤنٹس میں رقوم 12اعشاریہ4 ارب ڈالر سے بڑھ چکیں ،معاشی استحکام کیلئے اقدامات سے گریز نہیں کرینگے :گفتگو

واشنگٹن، کراچی ،اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ،این این آئی )گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات نے نئے خطرات کو جنم دیا اور اس سے پیدا معاشی بحران سے نمٹنے کیلئے پاکستان کی معیشت بہتر صلاحیت رکھتی ہے اورگزشتہ بحرانی ادوار کے مقابلے میں بہتر حالت میں ہے ،مالی سال کے آغاز کے بعد پاکستان کے کلیدی معاشی اشار ئیے توقع سے زیادہ تیزی سے بہتر ہوئے ہیں ،سٹیٹ بینک اور حکومت قیمتوں کے استحکام کو برقرار رکھنے اور معاشی استحکام کے تحفظ کیلئے ضروری اقدامات سے گریز نہیں کریں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے معروف عالمی مالیاتی اور سرمایہ کاری اداروں جے پی مورگن، بارکلیز، سٹی بینک، جیفریز اور فرینکلن ٹیمپلٹن سمیت بڑی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں فچ، موڈیز اور ایس اینڈ پی گلوبل کے سینئر عہدیداروں سے ملاقاتوں کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا،یہ ملاقاتیں 13 سے 18 اپریل 2026 کے دوران آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی اسپرنگ میٹنگز کے موقع پر ہوئیں۔

اس دوران گورنر سٹیٹ بینک نے آئی ایم ایف اور عالمی بینک گروپ کی قیادت کے ساتھ اہم دوطرفہ ملاقاتیں بھی کیں ۔انہوں نے شرکا کو آگاہ کیا کہ پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ کا تنازع شروع ہونے سے قبل ہی معیشت کے استحکام کی جانب نمایاں پیش رفت کر لی تھی،محتاط زری اور مالیاتی پالیسیوں کے امتزاج سے مالیاتی اور بیرونی ذخائر کو مضبوط بنانے میں مدد ملی، جس کے نتیجے میں مہنگائی میں کمی آئی اور اسے ہدف کی حد میں مستحکم رکھا جا سکا۔ انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے ابتدائی 9ماہ کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 5اعشاریہ 7 فیصد رہی، بیرونی کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس رہا، جبکہ سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 16اعشاریہ 4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ، اس اضافے کی ایک بڑی وجہ سٹیٹ بینک کی جانب سے انٹربینک مارکیٹ سے زرمبادلہ کی خریداری تھی۔گورنرسٹیٹ بینک نے مزید کہا کہ سٹیٹ بینک کی مسلسل خریداریوں اور سرکاری رقوم کی آمد کے باعث جون 2026 تک زرمبادلہ کے ذخائر کے تقریباً 18 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے ،بہتر معاشی استحکام نے بتدریج، پائیدار اور وسیع البنیاد معاشی بحالی میں کردار ادا کیا۔

مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو بڑھ کر 3اعشاریہ 8 فیصد رہی، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 1اعشاریہ8 فیصد تھی۔ جمیل احمد نے کہا کہ محتاط پالیسی سمت کے باعث پاکستان کے ابتدائی حالات آج گزشتہ بیرونی دھچکوں جیسے 2022 میں روس-یوکرین تنازع کے وقت کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہیں لیکن بہتر ابتدائی حالات کے باوجود معیشت کو اب مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ پیش رفت کے باعث پیدا ہونے والے چیلنجز کا سامنا ہے ، جن میں عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں، باربرداری اور بیمہ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ شامل ہے ۔ گورنر سٹیٹ بینک کے مطابق زری پالیسی حقیقی پالیسی ریٹ کو بڑی حد تک مثبت رکھنے کے اصول پر محتاط انداز میں جاری رکھی گئی ہے ، اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے ابتدائی مالیاتی سرپلس بھی حاصل کئے ہیں۔ موجودہ تنازعات کے تناظر میں حکومت نے ہدفی سبسڈیز متعارف کرائیں اور طلب کو قابو میں رکھنے کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات کیے ہیں۔

انہوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ توسیعی فنڈ سہولت کے تیسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی سہولت کے دوسرے جائزے کے لیے عملے کی سطح کے معاہدے کے ساتھ ساتھ ایک بڑی ریٹنگ ایجنسی کی جانب سے کریڈٹ ریٹنگ کی توثیق کا بھی حوالہ دیا، جسے انہوں نے معاشی استحکام اور اصلاحاتی ایجنڈے کے لیے حکومت اور سٹیٹ بینک کے عزم کا اعتراف قرار دیا۔اپنے دورے کے دوران گورنر جمیل احمد نے ترسیلاتِ زر اور روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ (آر ڈی اے )روڈ شو کے موقع پر پاکستانی تارکینِ وطن اور متعلقہ عالمی فریقوں سے ملاقاتیں بھی کیں۔ انہوں نے بتایا کہ 9 لاکھ 17 ہزار سے زائد آر ڈی اے اکاؤنٹس میں مجموعی رقوم 12اعشاریہ 4 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں، انہوں نے آر ڈی اے کے ضوابطی فریم ورک میں حالیہ بہتریوں کا خاکہ پیش کیا جن میں غیر مقیم اداروں کی شمولیت بھی شامل ہے ، جس کا مقصد پاکستان کو عالمی مالی منڈیوں سے مزید مربوط کرنا اور ملک میں بڑے پیمانے پر غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں