پاکستان پھر مرکزِ نگاہ: ایران سے مذاکرات کا اگلا دور اسلام آباد میں ہوگا: ٹرمپ

اسلام آباد، واشنگٹن، تہران: (دنیا نیوز) پاکستان پھر مرکزِ نگاہ بن گیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا اگلا دور اسلام آباد میں ہوگا۔

ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہمارے نمائندے مذاکرات کیلئے پاکستان میں موجود ہوں گے، سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر مذاکرات میں شامل ہوں گے، ہم ایک معاہدے تک پہنچنے کے قریب ہیں۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کو ایک منصفانہ اور قابل قبول پیشکش دے رہے ہیں، ایران سے معاہدہ کسی نہ کسی طریقے، دوستانہ یا مشکل طریقے سے ہو جائے گا، ایران کو بہت اچھی ڈیل آفر کی ہے، ڈیل نہ ہوئی تو وہ کام کروں گا جو 47 سال میں کوئی امریکی صدر نہ کر سکا۔

امریکی صدر نے کہا کہ ایران نے ڈیل قبول نہ کی تو اس کا ہر پاور پلانٹ اور پل تباہ کردیں گے، اب مزید نرمی نہیں دکھائی جائے گی، وقت آ گیا ہے ایران کی کلنگ مشین کو ختم کیا جائے، ایران نے جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے فرانسیسی اور برطانوی جہازوں کو گولیوں سے نشانہ بنایا، آبنائے ہرمز بند کرکے ایران ہماری مدد کر رہا ہے، آبنائے ہرمز کی بندش سے ایران کو یومیہ 500 ملین ڈالر کا نقصان ہورہا ہے۔

ادھر سفارتی ذرائع کے مطابق امریکی وفد دو مراحل میں پاکستان آئے گا، ایران کے مذاکراتی وفد کا بھی آج اسلام آباد پہنچنے کا امکان ہے۔

علاوہ ازیں ٹرمپ نے اسرائیلی چینل 12 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں ایران کے ساتھ ڈیل کے حوالے سے بہت پرامید ہوں، ایران کے ساتھ معاہدے کا ڈھانچہ درحقیقت تیار ہو چکا ہے، اگر تہران کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا تو وہ پاکستان جائیں گے۔

نیویارک پوسٹ کے مطابق انہوں نے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کے دوران ایران کا بحری محاصرہ برقرار رہے گا۔

ایرانی خبر ایجنسی تسنیم نے کہا ہے کہ گزشتہ دنوں فریقین نے پاکستان کی ثالثی میں پیغامات کا تبادلہ کیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ایران کی بندرگاہوں یا ساحلوں کا نام نہاد امریکی محاصرہ نہ صرف پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ ایک غیر قانونی اور مجرمانہ فعل بھی ہے۔

یاد رہے کہ پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں گزشتہ ہفتے امریکا اور ایران کے درمیان کئی دہائیوں بعد پہلے براہ راست مذاکرات ہوئے تھے جن کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی مجلس شوریٰ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کی تھی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں