سپریم کورٹ:ہنگامی تعطیلات میں امور جاری، ضروری عملہ تعینات
آج اور کل کیلئے روسٹر جاری، چیف جسٹس اسلام آباد میں بینچ کی سربراہی کرینگے
اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)سپریم کورٹ نے غیر متوقع عوامی تعطیلات کے دوران عدالتی امور کی بلا تعطل انجام دہی اور مقدمات کی سماعت (فکسیشن) کا نظام مزید شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے نئے سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) جاری کر دیئے ۔ جاری اعلامیہ کے مطابق اچانک یا ہنگامی عوامی تعطیلات کے دوران عدالت کے انتظامی اور عدالتی امور معمول کے مطابق جاری رہیں گے ، تاہم ضروری عملہ تعینات کیا جائے گا، الا یہ کہ چیف جسٹس پاکستان کی کوئی مختلف ہدایت جاری کی جائے۔
ایس او پیز کے تحت مقدمات کی سماعت کے لیے ترجیحی بنیادوں پر نظام وضع کیا گیا جس میں فوری نوعیت کے دیوانی و فوجداری مقدمات، فیملی کیسز، ضمانت اور فوجداری نظرثانی درخواستیں، 80 برس سے زائد عمر کے قیدیوں کے مقدمات، بحالی کی درخواستیں، مصالحتی نوعیت کے کیسز اور مختصر قانونی نکات پر مشتمل مقدمات کو فوقیت دی جائے گی۔مقدمات کے بوجھ میں کمی کے لیے ہر فائنل کاز لسٹ کا کم از کم 40 فیصد حصہ 2018 تک کے پرانے مقدمات پر مشتمل ہوگا، ضرورت کے مطابق بعد کے کیسز بھی شامل کیے جائیں گے ۔ سندھ اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے وکلا کے مقدمات کے لیے خصوصی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے ۔ شفافیت اور مقدمات کا بروقت اندراج یقینی بنانے کے لیے ہفتہ وار اور مجوزہ ماہانہ کاز لسٹ جاری کرنے کے ساتھ ساتھ خودکار کیس فکسیشن سسٹم متعارف کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ میں 22 اور 23 اپریل کے لیے جاری ججز روسٹر کے مطابق چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی اسلام آباد میں تشکیل دیئے گئے بینچ کی خود سربراہی کریں گے ، جہاں اہم مقدمات کی سماعت ہوگی۔ رجسٹرار آفس کے مطابق جسٹس منیب اختر، جسٹس عرفان سعادت اور جسٹس میاں گل حسن چیمبر ورک انجام دیں گے ۔ پشاور رجسٹری میں 22 اور 23 اپریل کو تین بینچز سماعت کریں گے ۔ پہلا بینچ جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس مسرت ہلالی، دوسرا بینچ جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس صلاح الدین اور جسٹس اشتیاق ابراہیم، تیسرا بینچ جسٹس شفیع صدیقی اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل ہوگا۔ لاہور رجسٹری میں دو بینچز سماعت کریں گے ۔ پہلا بینچ جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید، دوسرا بینچ جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شہزاد ملک پر مشتمل ہوگا۔ روسٹر کے مطابق ملک بھر کی رجسٹریوں میں مقدمات کی سماعت شیڈول کے تحت جاری رہے گی۔